السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلاةِ , حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا , وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25 ، قَالَ : " فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا , فَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ , فَصَلاهَا فَأَحْسَنَ صَلاتَهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا , ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلاهَا كَذَلِكَ , ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلاهَا كَذَلِكَ , ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلاهَا كَذَلِكَ أَيْضًا " , قَالَ : وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزِلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ : فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جنگ خندق کے دن نماز سے روک دیے گئے یعنی مشرکین نے جنگ میں مصروف رکھا یہاں تک کہ مغرب کے بعد رات کا کافی حصہ گزر گیا، پھر ہمیں کفایت کی گئی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا﴾ [الاحزاب: 25] ”اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔“ میں ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا تو انہوں نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اطمینان سے نماز پڑھائی جس طرح وقت پر پڑھایا کرتے تھے پھر عصر کے لیے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر بھی اسی طرح پڑھائی جس طرح وقت پر پڑھاتے تھے پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز مغرب کے لیے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب بھی اسی طرح پڑھائی پھر نماز عشاء کے لیے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء بھی اسی طرح پرسکون ہو کر عاجزی سے پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں: یہ نماز خوف کا طریقہ ﴿فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا﴾ [البقره: 239] نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
➋ خندق گڑھے کو کہتے ہیں جو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے مدینہ کے ایک جانب جبل احد اور سبع المساجد کے درمیان کھودی گئی جس کے باعث دشمن کا داخلہ مدینہ میں بند ہو گیا دونوں لشکر دور سے ایک دوسرے پر تیراندازی کرتے رہے جس سے فریقین کا کچھ نقصان بھی ہوا۔ بالآخر اہلِ کفر شکست و ہزیمت کے ساتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔
➌ فوت شدہ نمازیں ترتیب سے اداء کی جائیں گی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر کیا۔
➍ فوت شدہ نمازیں با جماعت بھی ادا کی جاسکتی ہیں۔
➎ متعدد نمازیں جمع کرتے ہوئے ایک اذان اور ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہی جائے گی۔
➏ نماز فجر کی قضاء کے وقت بھی دورانِ سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کا حکم دیا تھا۔ [ديكهئے صحيح بخاري، رقم الحديث: 344، صحيح مسلم، رقم الحديث: 681]
➐ فوت شدہ نمازوں کی قضا میں جلدی کرنی چاہیے تاخیر مناسب نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من نسى صلاة او نام عنها فكفارتها ان يصليها اذا ذكرها» جو شخص نماز پڑھنا بھول گیا یا نماز کی ادائیگی سے سویا رہ گیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے فوراً پڑھ لے۔ [صحيح بخاري، رقم الحديث: 597، صحيح مسلم، رقم الحديث: 684]
➑ قضاء نماز بھی بر وقت نماز کی طرح سکون واطمینان سے اداء کرنی ضروری ہے۔
➒ کفار کی کثرت اہل ایمان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جبکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو۔
➓ نماز خوف کا حکم غزوہ خندق کے بعد نازل ہوا۔
⓫ نماز خوف کے متعدد طریقے کتب احادیث میں مذکور ہیں موقع کی مناسبت سے کسی بھی طریقہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔
⓬ راوی حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے آپ خزرجی، انصاری صحابی ہیں، غزوہ احد کے وقت تیرہ برس کے تھے میدانِ جنگ میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن کم عمری کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا، آپ کے والد غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ آپ غزوہ خندق، غزوہ خیبر، حنین، تبوک، صلح حدیبیہ، فتح مکہ وغیرہ میں شریک ہوئے اور مجاہدین اسلام کے شانہ بشانہ لڑے بروز جمعہ 64ھ آپ مدینہ منورہ میں فوت ہوئے مقبرہ بقیع میں مدفون ہیں۔