حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک شامی چادر تحفے میں دی جس پر لکیریں تھیں اس میں آپ ﷺ نے نماز پڑھی جب واپس پلٹے فرمایا: ”یہ چادر ابو جہم رضی اللہ عنہ کو واپس کر دو میں نے نماز میں ان نشانات کو دیکھا تو قریب تھا کہ مجھے آزمائش میں ڈال دیتے۔“

وضاحت:
➊ تحائف کا تبادلہ مسنون عمل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے تھے۔
➋ مزید شرح اور مسائل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 183۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة / حدیث: 184
تخریج حدیث مسند احمد : 278/42 وقال الارنوؤط حدیث صحیح وهذا اسناد حسن ، اخرجه الشيخان من غير هذا الطريق ۔