السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 185
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا کچھ مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کو ملے گا الا یہ کہ خریدار شرط لگائے کہ مال میرا ہوگا۔“
وضاحت:
➊ خرید و فروخت اور تجارت کسب معاش کا بہترین ذریعہ ہے، دین اسلام نے صادق و امین اور جائز ذرائع اختیار کر کے تجارت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کے لیے اخروی نوید سنائی ہے۔
➋ ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تجارت کے پیشہ کو اختیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد، خاص طور پر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم اسی پیشہ تجارت سے وابستہ تھے۔
➌ عہد نبوی میں غلاموں کی تجارت ہوتی تھی اور ان کو مالِ تجارت شمار کیا جاتا تھا، اس لیے شریعت میں ان سے متعلق ہدایات دی گئیں۔
➍ چونکہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اس کا مال حقیقت میں اس کے مالک کا ہی ہوتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی وضاحت فرمائی۔
➋ ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تجارت کے پیشہ کو اختیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد، خاص طور پر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم اسی پیشہ تجارت سے وابستہ تھے۔
➌ عہد نبوی میں غلاموں کی تجارت ہوتی تھی اور ان کو مالِ تجارت شمار کیا جاتا تھا، اس لیے شریعت میں ان سے متعلق ہدایات دی گئیں۔
➍ چونکہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اس کا مال حقیقت میں اس کے مالک کا ہی ہوتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی وضاحت فرمائی۔