السنن المأثورة
باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة— عورتوں کا مساجد میں با جماعت نماز میں حاضر ہونے کا بیان
باب ما جاء في حضور النساء مساجد الجماعة باب: عورتوں کا مساجد میں با جماعت نماز میں حاضر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 183
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْمَازِنِيُّ أَحَدُ الْمَقْتُولِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَأَخُوهُ لأُمِّهِ .نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چادر میں نماز پڑھی اور فرمایا : ”اس نے مجھے نماز سے مشغول کر دیا اسے ابو جہم رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور اس کے بدلے انبیجانی چادر لے آؤ۔“
وضاحت:
➊ انبجان علاقے کا نام ہے جہاں چادریں بنتی تھیں، انبجانی چادریں سادہ اور بغیر دھاریوں کے ہوتی تھیں۔
➋ سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں خوبصورت دھاریوں والی چادر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سادہ چادر لینے کے لیے کہا تاکہ اگر وہ واپس کی جائے تو ان کا دل نہ دکھے۔
➌ یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہرائی نہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھاری دار چادر میں نماز پڑھ لی تو نماز تو ہو جائے گی البتہ جو چیز نماز میں خلل ڈالے اسے بدل دینا چاہیے، اور ضروری نہیں کہ ایک چیز اگر ایک آدمی کو خلل ڈالتی ہے تو دوسرے کو بھی خلل ڈالے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم نہیں دیا کہ آج کے بعد کوئی دھاری دار لباس پہن کر نماز نہ پڑھے بلکہ اپنا خلل دور فرمایا۔ (واللہ اعلم!)
➍ بعض لوگ مساجد کے قالین پر اعتراض کر کے پوری مسجد کے لیے وبال بن جاتے ہیں کہ اس کو دور کرو، جبکہ مسئلہ صرف ایک بندے کو ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ گھر سے سادہ مصلیٰ لے آیا کرے۔ (واللہ اعلم!)
➎ اگر کسی جاندار کی شکل بنی ہوئی ہے یا کوئی بت بنا ہے تو اس قالین پر نماز درست نہ ہو گی، اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے، البتہ اہل المساجد کو چاہیے کہ قالین ایک رنگ والا خریدیں اور سادگی کو ہر چیز میں ترجیح دیں، شوخ رنگ اور پھول بوٹوں والے جائے نماز مساجد میں نہ ڈالیں تاکہ خلل واقع نہ ہو۔
➋ سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں خوبصورت دھاریوں والی چادر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سادہ چادر لینے کے لیے کہا تاکہ اگر وہ واپس کی جائے تو ان کا دل نہ دکھے۔
➌ یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہرائی نہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھاری دار چادر میں نماز پڑھ لی تو نماز تو ہو جائے گی البتہ جو چیز نماز میں خلل ڈالے اسے بدل دینا چاہیے، اور ضروری نہیں کہ ایک چیز اگر ایک آدمی کو خلل ڈالتی ہے تو دوسرے کو بھی خلل ڈالے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم نہیں دیا کہ آج کے بعد کوئی دھاری دار لباس پہن کر نماز نہ پڑھے بلکہ اپنا خلل دور فرمایا۔ (واللہ اعلم!)
➍ بعض لوگ مساجد کے قالین پر اعتراض کر کے پوری مسجد کے لیے وبال بن جاتے ہیں کہ اس کو دور کرو، جبکہ مسئلہ صرف ایک بندے کو ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ گھر سے سادہ مصلیٰ لے آیا کرے۔ (واللہ اعلم!)
➎ اگر کسی جاندار کی شکل بنی ہوئی ہے یا کوئی بت بنا ہے تو اس قالین پر نماز درست نہ ہو گی، اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے، البتہ اہل المساجد کو چاہیے کہ قالین ایک رنگ والا خریدیں اور سادگی کو ہر چیز میں ترجیح دیں، شوخ رنگ اور پھول بوٹوں والے جائے نماز مساجد میں نہ ڈالیں تاکہ خلل واقع نہ ہو۔