السنن المأثورة
باب من أوتر من أول الليل وآخره— رات کے پہلے اور آخری پہر وتر پڑھنے کا بیان
باب من أوتر من أول الليل وآخره باب: رات کے پہلے اور آخری پہر وتر پڑھنے کا بیان
أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " فَقَالَ : قَبْلَ أَنْ أَنَامَ أَوْ قَالَ : أَوَّلَ اللَّيْلِ ، وَقَالَ : " يَا عُمَرُ مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : آخِرَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أضْرِبُ لَكُمَا مَثَلا ؟ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَكَالَّذِي قَالَ : أَحْرَزْتُ نَهْبِي ، وَابْتَغَى النَّوَافِلَ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَتَعْمَلُ بِعَمَلِ الأَقْوِيَاءِ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : نَهْبِي يَعْنِي سَهْمِي .سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ وتر کب پڑھتے ہیں؟“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”سونے سے پہلے پڑھ لیتا ہوں“ یا کہا ”رات کے پہلے حصے میں پڑھتا ہوں“ اور آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”عمر رضی اللہ عنہ تم کب پڑھتے ہو؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رات کے آخری پہر“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک مثال نہ بیان کروں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کہا ”میں نے اپنا حصہ بچا لیا ہے“ یعنی میں نے سونے سے پہلے جو واجب کام تھا کر دیا اگر آنکھ کھلی تو نوافل بھی پڑھ لوں گا اور اے عمر رضی اللہ عنہ یہ تو نے مضبوط لوگوں والا عمل کیا۔“
تم میں سے جس کو اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری پہر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے اور جو رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کی امید رکھتا ہو تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ میں قرآن پڑھنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل وقت ہے۔ [جامع ترمذی: 455]
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق رات سونے سے قبل وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری: 1178، صحیح مسلم: 721]