حدیث نمبر: 174
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاتُهُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم آگے سترہ رکھ کر نماز پڑھو تو اس کے قریب کھڑے ہو (تا کہ) شیطان نماز توڑ نہ دے۔“

وضاحت:
➊ سترہ تقریبا ڈیڑھ فٹ اونچا ہونا چاہیے۔
➋ سترے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ گزرنے والوں کو بھی سہولت رہے اور آدمی کی نماز میں خلل بھی نہ پڑے، سترہ رکھنے سے خیالات منتشر نہیں ہوتے۔
➌ سترہ اور آدمی کے درمیان صرف سجدہ کی جگہ ہونی چاہیے، مسجد کا ستون، دیوار وغیرہ سے کوئی بھی رکاوٹ بطور سترہ استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔
➍ نمازیوں کو چاہیے خالی مسجد میں بھی جب نماز پڑھنے لگیں تو دیوار کے قریب کھڑے ہوں نہ کہ مسجد کے وسط میں تاکہ شیطان آگے سے گزر کر نماز نہ توڑے اور خیالات منتشر نہ ہوں۔
➎ ویرانے میں سواری وغیرہ کو بھی سترہ بنایا جا سکتا ہے۔ [صحیح بخاری: 430]
➏ امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔
➐ نمازی کے آگے سے گزرنا سخت گناہ ہے، چنانچہ سیدنا ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لو يعلم المار بين يدى المصلى ما ذا عليه لكان ان يقف اربعين خيراله من أن يمر بين يديه»
اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس دن، مہینہ یا سال وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔ [صحیح بخاری: 510]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أوتر من أول الليل وآخره / حدیث: 174
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب الدنو من السترة، رقم : 695 وقال الالبانی: صحیح، سنن نسائی، القبلة، باب الامر بالدنو من السترة، رقم : 748 وصححه ابن خزيمة، رقم : 803 ، وابن حبان، رقم : 409 وقال الحاكم صحيح على شرط الشيخين و وافقه الذهبي المستدرک : 251/1 ۔ جامع ترمذی: رقم الحديث 455- وقال الالبانی: صحیح ۔