حدیث نمبر: 153
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " لا تَنْصَرِفْ حَتَّى تَجِدَ رِيحًا أَوْ تَسْمَعَ صَوْتًا " .
نوید مجید طیب

عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ اسے نماز میں وہم ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز سے نہ پھیر جب تک بدبو یا آواز نہ سن لے۔“

وضاحت:
➊ یقین شک کی بناء پر زائل نہیں ہو سکتا محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس حدیث میں وہم اور شک میں پڑنے سے روکا گیا ہے۔
➋ اگر یقین ہے کہ ہوا نکلی ہے چاہے بدبو ناک تک نہیں پہنچی تو وضو ٹوٹ گیا ہے۔ جب شک ہو پتا نہیں وضو ٹوٹا ہے یا نہیں تو پھر دو چیزیں دیکھی جائیں گی۔ آواز اور بدبو۔
➌ ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
➍ محض شک کی بنا پر طہارت کے معاملہ میں بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہونا درست نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب القنوت / حدیث: 153
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوضوء، باب من لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن، رقم: 137؛ صحیح مسلم، الحيض، باب الدليل على ان من تيقن الطهارة ... الخ، رقم: 361