حدیث نمبر: 152
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ , عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ ، فَقَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ " .نوید مجید طیب
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت کیا۔
وضاحت:
➊ قنوت نازلہ رکوع کے بعد ہے جبکہ قنوت وتر رکوع سے پہلے ہے۔
➋ امام قنوت نازلہ میں اہل اسلام کے لیے دعا اور کفار کے لیے بد دعا کرتا ہے۔ قنوت نازلہ کی دعائیں عربی زبان میں امام بآواز بلند پڑھے گا اور مقتدی آمین کہیں گے جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قنوت نازلہ میں آمین کہتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 1443]
➌ حقیقی کافر سرکش کا نام لے کر بھی اس کے خلاف بد دعا کی جا سکتی ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی مکہ والے ہڈیاں، چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہوئے پھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور دعا کی درخواست کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو قحط سالی دور ہو گئی۔
➋ امام قنوت نازلہ میں اہل اسلام کے لیے دعا اور کفار کے لیے بد دعا کرتا ہے۔ قنوت نازلہ کی دعائیں عربی زبان میں امام بآواز بلند پڑھے گا اور مقتدی آمین کہیں گے جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قنوت نازلہ میں آمین کہتے تھے۔ [سنن ابی داؤد: 1443]
➌ حقیقی کافر سرکش کا نام لے کر بھی اس کے خلاف بد دعا کی جا سکتی ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوئی مکہ والے ہڈیاں، چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہوئے پھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور دعا کی درخواست کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو قحط سالی دور ہو گئی۔