السنن المأثورة
باب من سمع النداء— جو اذان سنے اس پر کیا واجب ہے؟
باب من سمع النداء باب: جو اذان سنے اس پر کیا واجب ہے؟
حدیث نمبر: 149
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔“
وضاحت:
➊ مؤذن کو اقامت اس وقت شروع کرنی چاہیے جب امام کو حجرے سے نکلتا دیکھے جیسا کہ اس حدیث سے امام نسائی رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے۔ «اقامة المؤذن عند خروج الامام»
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں ہوتے مؤذن اجازت لے کر آتا کہ میں اقامت کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہو، تو کبھی کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے لوگوں کو پہلے کھڑا دیکھ کر احساس کرتے شاید ان کو مشکل درپیش ہوئی اس لیے فرمایا: لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب امام کو نکلتے دیکھ لیں۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اقامت کے بعد بھی فرماتے تھے، اقامت کے بعد ایک بندہ مسئلہ پوچھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی زیادہ دیر اسے سمجھاتے رہے پھر اسی اقامت سے جماعت کروائی۔ جبکہ آج کل ائمہ کا لوگ احترام و انتظار نہیں کرتے اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ کا استدلال و موقف درست ہے کہ اقامت اس وقت کہی جائے جب امام نکل آئے، اگر زمانہ اولیٰ کی طرح گورنر ہی امام ہوتا تو لوگوں کی کیا مجال تھی احترام نہ کرتے یا انتظار نہ کرتے اور دوسرا یہ فائدہ ہوتا کہ گورنر کے ساتھ بقیہ سیاسی مالشیے بھی نماز میں آتے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے۔
➍ امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ تکبیر ختم ہونے کے بعد اٹھنا چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں تکبیر ہوتے ہی اٹھ جانا چاہیے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں «قد قامت الصلاة» پر کھڑا ہونا چاہیے۔ امام احمد رحمہ اللہ «حي على الصلاة» پر اٹھنے کا موقف رکھتے ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ اگر امام مصلیٰ پر موجود ہے جیسا کہ آج کل ہوتا ہے تکبیر ہوتے ہی صفیں درست کر لینی چاہئیں، اور اگر امام صاحب حجرہ میں ہوں تو اُن کی آمد پر اٹھنا چاہیے، حتیٰ کہ مجھ دیکھ لو کا یہی تقاضا ہے۔
➎ تکبیر کے بعد امام کو صفیں درست کروا کر جماعت کھڑی کرنی چاہیے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں ہوتے مؤذن اجازت لے کر آتا کہ میں اقامت کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہو، تو کبھی کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے لوگوں کو پہلے کھڑا دیکھ کر احساس کرتے شاید ان کو مشکل درپیش ہوئی اس لیے فرمایا: لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب امام کو نکلتے دیکھ لیں۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اقامت کے بعد بھی فرماتے تھے، اقامت کے بعد ایک بندہ مسئلہ پوچھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی زیادہ دیر اسے سمجھاتے رہے پھر اسی اقامت سے جماعت کروائی۔ جبکہ آج کل ائمہ کا لوگ احترام و انتظار نہیں کرتے اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ کا استدلال و موقف درست ہے کہ اقامت اس وقت کہی جائے جب امام نکل آئے، اگر زمانہ اولیٰ کی طرح گورنر ہی امام ہوتا تو لوگوں کی کیا مجال تھی احترام نہ کرتے یا انتظار نہ کرتے اور دوسرا یہ فائدہ ہوتا کہ گورنر کے ساتھ بقیہ سیاسی مالشیے بھی نماز میں آتے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے۔
➍ امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ تکبیر ختم ہونے کے بعد اٹھنا چاہیے۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں تکبیر ہوتے ہی اٹھ جانا چاہیے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں «قد قامت الصلاة» پر کھڑا ہونا چاہیے۔ امام احمد رحمہ اللہ «حي على الصلاة» پر اٹھنے کا موقف رکھتے ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ اگر امام مصلیٰ پر موجود ہے جیسا کہ آج کل ہوتا ہے تکبیر ہوتے ہی صفیں درست کر لینی چاہئیں، اور اگر امام صاحب حجرہ میں ہوں تو اُن کی آمد پر اٹھنا چاہیے، حتیٰ کہ مجھ دیکھ لو کا یہی تقاضا ہے۔
➎ تکبیر کے بعد امام کو صفیں درست کروا کر جماعت کھڑی کرنی چاہیے۔