السنن المأثورة
باب من سمع النداء— جو اذان سنے اس پر کیا واجب ہے؟
باب من سمع النداء باب: جو اذان سنے اس پر کیا واجب ہے؟
حدیث نمبر: 150
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ , عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ , عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ تَجَافَى حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ مِنْ تَحْتِهِ لَمَرَّتْ " .نوید مجید طیب
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ فرماتے (اپنے بازوؤں، رانوں اور زمین سے الگ رکھتے حتی کہ اگر بکری کا بچہ نیچے سے گزرنا چاہتا تو اتنا فاصلہ ہوتا) گزر جاتا۔
وضاحت:
➊ سجدہ کرتے وقت بازو پہلو اور پیٹ سے جدا رکھنے چاہئیں۔
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو بازو اتنے کھولتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن ابی داؤد: 899]
یہ حکم مرد و زن سب کے لیے ہے۔ سجدے میں عورتوں کا زمین کے ساتھ سمٹ جانا درست نہیں، مرد و عورت کے سجدہ کا ایک ہی طریقہ ہے۔
➋ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو بازو اتنے کھولتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن ابی داؤد: 899]
یہ حکم مرد و زن سب کے لیے ہے۔ سجدے میں عورتوں کا زمین کے ساتھ سمٹ جانا درست نہیں، مرد و عورت کے سجدہ کا ایک ہی طریقہ ہے۔