حدیث نمبر: 148
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَهُ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمُ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " . قَالَ الطَّحَاوِيُّ : الْمِرْمَاتَانِ هُمَا ظِلْفَا الشَّاةِ .
نوید مجید طیب

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے مصمم ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں پھر نماز کا حکم دوں اذان دی جائے پھر ایک بندے کو جماعت کرانے کا کہوں پھر خود ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے غائب ہیں انہیں گھروں سمیت جلا ڈالوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ کو پتہ چلے کہ مسجد میں ایک اچھے گوشت والی ہڈی ملے گی یا دو عمدہ پائے مل جائیں گے تو عشاء میں ضرور پہنچ آئیں۔“

وضاحت:
➊ ان احادیث میں باجماعت نماز کی اہمیت بتائی گئی ہے کہ مردوں کی گھر میں بغیر جماعت کے نماز نہیں ہوتی۔
➋ جماعت فرض عین ہے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ کا موقف ہے، اگر عورتوں اور بچوں کا خدشہ نہ ہوتا تو جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے گھروں کو جلا دیا جاتا۔
➌ اگر نابینا کو اجازت نہیں ملی تو آنکھوں والوں کے لیے بالکل گنجائش نہیں؟
➍ مزید اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجرموں کے گھر پر چھاپہ مارا جا سکتا ہے اور ان کو مالی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ گھروں سے نکالا جا سکتا ہے لیکن اس دوران پردہ متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
➎ بے نماز کو حاکم وقت کو سزا دینی چاہیے، جب صرف سستی برتنے والوں کے گھر جلائے جا سکتے ہیں تو بے نماز کو سزا بالاولیٰ دینی چاہیے۔
➏ مزید معلوم ہوا کہ مسجد کی جگہ وغیرہ کا قوم کے امام اعظم یا بڑے عالم سے افتتاح کرانا جائز امر ہے۔
➐ نابینا کی امامت بلا کراہت جائز ہے، اہل الرائے کہتے ہیں نابینا کو نجاست لگ جاتی ہے، متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم نابینے تھے کیا وہ پلید ہی رہتے تھے؟ نعوذ باللہ! آنکھ کے اندھے کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے البتہ عقل کے اندھے کے پیچھے پڑھنے سے پرہیز بہتر ہے، جو توحید کو چھوڑ کر شرک اور سنت کو چھوڑ کر بدعت اور حدیث کو چھوڑ کر حکایات کو دین بنائے بیٹھا ہے۔
➑ نابینا صحابی رضی اللہ عنہ نے مندرجہ ذیل عذر پیش کیے۔
1: «ضرير البصر» نابینا ہوں گھر نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔
2: «شاسع الدار» گھر دور ہے۔
3: لا قائد لی، مسجد تک لے کر آنے والا کوئی نہیں۔
4: «إن المدينة كثيرة الهوام» مدینہ میں سانپ وغیرہ بہت ہیں۔
5: «واسباع» درندے بھی ہیں۔
6: «السيول تحول بيني وبين المسجد» راستہ میں نالہ بہتا ہے۔
جماعت سے پیچھے رہنے کے لیے نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کے چھ عذر قبول نہیں تو آنکھوں والے کا کون سا عذر اس سے بڑھ کر ہوگا؟
➒ مساجد میں محض حرص و لالچ کے لیے حاضر ہونا غیر مستحسن ہے۔
➓ مخلص مومن حصول ثواب جبکہ منافقین مفادات کے لیے مساجد کو رونق بخشتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من سمع النداء / حدیث: 148
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاذان، باب وجوب صلاة الجماعة، رقم: 644؛ صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة الجماعة، رقم: 651