السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 132
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ " ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ، وَقَالَ : وَأُرَاهُ قَالَ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ وَتَجْلِسُ فِي الْمِرْكَنِ فَيَعْلُوهُ الدَّمُ " .نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا استحاضہ کی مریضہ تھیں انہوں نے اس سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رگ کا خون ہے حیض کا خون نہیں (یعنی اس کے باعث نماز نہیں چھوڑنی)۔“ پھر وہ غسل کرتیں اور نماز پڑھتیں۔ راوی کا خیال ہے ہر نماز کے لیے غسل کرتیں اور ایک ٹپ میں بیٹھتیں تو پانی پر خون ظاہر ہو جاتا۔