حدیث نمبر: 131
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَذَّنَ بِلالٌ ، فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلا لا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاةِ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَشَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا كَانَ ذَلِكَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ ! إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ فَمَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيَقُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کی صلح کرانے تشریف لے گئے نماز کا وقت ہو گیا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی رسول اللہ ﷺ لیٹ ہو گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کی اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں کھڑے ہوئے لوگوں نے تالیاں بجائیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز خشوع سے پڑھنے والے (التفات کرنے والے نہ تھے) تالیوں کی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ پر نظر پڑی رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کیا ”جاری رکھو“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ کا شکر کیا الٹے پاؤں پیچھے ہوئے رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے جب نماز سے فارغ ہوئے فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے اشارہ کر دیا تھا کہ جاری رکھو پھر کیا مانع تھا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض پرداز ہوئے: ”ابن ابی قحافہ کے لیے کیسے روا ہے کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں امام بن جائے؟“ پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف پھرے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہوا جب نماز میں کوئی واقعہ رونما ہوا تالیاں بجانے لگے تالیاں عورتوں کے لیے ہیں مردوں کے لیے (ایسے موقعوں پر) سبحان اللہ کہنا ہے جس کو نماز میں کوئی حاجت پیش آئے سبحان اللہ کہے۔“

وضاحت:
➊ رعایا میں ناچاقی ہو جائے تو امام و حکمران کی ذمہ داری ہے کہ ان میں مفاہمت کا کردار ادا کرے۔
➋ راتب امام کی عدم موجودگی میں بھی نماز باجماعت وقت پر ادا ہونی چاہیے۔
➌ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر حاضری میں لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی امام تسلیم کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام مرض میں آپ رضی اللہ عنہ کو ہی امت کا امام مقرر فرمایا تھا۔ امت نے اس حکم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری رکھا۔
➍ ثابت ہوا کہ جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ہو جائیں وہاں امتی مصلیٰ پر کھڑا ہونے کی جرات نہیں کرتا۔
➎ مزید مسائل اور فوائد کے لیے دیکھیے شرح حدیث نمبر 129۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 131
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب التصفيق للنساء، رقم: 684/1204؛ صحیح مسلم، الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلى بهم ... الخ: 421