حدیث نمبر: 125
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ ، عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ فَلَمْ يَقُلْ لَنَا شَيْئًا " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما گدھی پر آئے رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے ہم گدھی سمیت بعض صف کے آگے سے گزرے گدھی سے اترے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے آپ ﷺ نے ہمیں کچھ نہیں کہا تھا۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 125
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب سترة المصلی، رقم: 504