السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 126
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّلاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو منی میں جماعت کروا رہے تھے میں آپ ﷺ کے سامنے بعض صف کے آگے سے گزرا گدھی سے اترا گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا مجھ پر پوری جماعت میں سے کسی ایک نے بھی اعتراض نہ کیا۔
وضاحت:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں بھائی گدھی پر سوار ہو کر آئے۔ یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے، صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں نماز پڑھا رہے تھے جبکہ سنن نسائی میں ہے کہ عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، یعنی یہ حجۃ الوداع میں ہوا۔ چونکہ سفر گدھی پر کر رہے تھے، منی سے عرفہ اور عرفہ سے منی بھی سواری پر ہی آئے ہوں گے، دونوں جگہ ایسے ہی کیا ہو گا؛ ایک میں ساتھ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے ایک میں صرف اپنا ذکر کرتے ہیں۔
➋ امام مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے، بعض صف کے آگے سے گزرا جا سکتا ہے لیکن پوری صف کے آگے سے امام کو بھی منقطع کرتے ہوئے گزرنا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ عرب کے بدو پوری پوری صف کاٹ جاتے ہیں، جب ان کو روکا جائے تو یہ حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہیں جبکہ یہ حدیث بعض صف کے کاٹنے پر دلالت کرتی ہے۔
➌ امام مقتدیوں کا سترہ ہے لہٰذا امام اور مقتدیوں کے درمیان سے نہیں گزر سکتا۔ بغیر سترے کے اگر نمازی کے سامنے سے یعنی سجدہ کی جگہ سے عورت، گدھا یا کالا کتا گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
➍ گدھے پر سواری شرعاً جائز ہے۔
➎ نماز با جماعت کھڑی ہو تو بعد میں آنے والے نماز کے ساتھ شریک ہو جائیں گے۔
➏ نابالغ بچے کی بیان کردہ شرعی بات قابل حجت ہے۔
➋ امام مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے، بعض صف کے آگے سے گزرا جا سکتا ہے لیکن پوری صف کے آگے سے امام کو بھی منقطع کرتے ہوئے گزرنا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ عرب کے بدو پوری پوری صف کاٹ جاتے ہیں، جب ان کو روکا جائے تو یہ حدیث بطور دلیل پیش کرتے ہیں جبکہ یہ حدیث بعض صف کے کاٹنے پر دلالت کرتی ہے۔
➌ امام مقتدیوں کا سترہ ہے لہٰذا امام اور مقتدیوں کے درمیان سے نہیں گزر سکتا۔ بغیر سترے کے اگر نمازی کے سامنے سے یعنی سجدہ کی جگہ سے عورت، گدھا یا کالا کتا گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
➍ گدھے پر سواری شرعاً جائز ہے۔
➎ نماز با جماعت کھڑی ہو تو بعد میں آنے والے نماز کے ساتھ شریک ہو جائیں گے۔
➏ نابالغ بچے کی بیان کردہ شرعی بات قابل حجت ہے۔