حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ مُعْتَرِضَةً فِي الْقِبْلَةِ فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ ، قَالَ : " تَنَحِّي " .
نوید مجید طیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تو میں ان کے آگے قبلہ کے درمیان حائل سوئی ہوتی تو جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے : ”تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔“

وضاحت:
➊ معلوم ہوا کہ اگر آگے کوئی لیٹا، بیٹھا یا کھڑا ہو تو اس کا حکم گزرنے والے کی طرح نہیں، جبکہ نماز کے آگے سے گزرنا سخت گناہ ہے۔ بعض نے کہا دو صفیں چھوڑ کر گزر سکتا ہے، منع متصل آگے سے گزرنا ہے یعنی جس جگہ نمازی نے سجدہ کرنا ہے کیونکہ نمازی ساری مسجد کا مالک نہیں بن گیا۔ یہ قول محل نظر ہے، بغیر رکاوٹ و سترہ کے گزرنے سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔
➋ حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا تنگ تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹتیں تو ان کی ٹانگیں اس جگہ ہوتیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرنا ہوتا تو ہاتھ سے متنبہ کر دیتے کہ سجدہ کا وقت ہو گیا ہے ٹانگیں سمیٹ لو۔
➌ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عورت کو محض ہاتھ لگانے سے وضو یا نماز میں خلل نہیں پڑتا۔ ان دنوں غربت کے باعث گھروں میں چراغ نہیں تھے کہ روشنی ہوتی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جان جاتیں اور خود ہی پاؤں سمیٹ لیتیں۔
➍ گھروں میں قیام اللیل اور نوافل کا اہتمام کرنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 124
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصلاة، باب من قال المرأة لا تقطع الصلاة، رقم: 714 وقال الالبانی: حسن صحیح