حدیث نمبر: 123
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ، قَالَتْ : وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ " .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سو جاتی میری ٹانگیں آپ کے قبلہ کی سمت میں ہوتیں جب آپ ﷺ سجدہ کرنے لگتے مجھے دباتے تو میں ٹانگیں پیچھے کر لیتی جب آپ سجدوں سے کھڑے ہو جاتے تو میں ٹانگیں دوبارہ بچھا لیتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 123
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاة، باب الصلاة علی الفراش، رقم: 382، صحیح مسلم، الصلاة، باب الاعتراض بين يدی المصلی، رقم: 512