حدیث نمبر: 105
عَنِ الثَّقَفِيِّ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ لأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ إِذَا دَخَلَ وَكَانَ لَهُ نُغِيرٌ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ ؟ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
نوید مجید طیب

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھا اس کا نام ابو عمیر رضی اللہ عنہ تھا، رسول اللہ ﷺ جب ان کے گھر جاتے تو اس سے مزاح کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابو عمیر رضی اللہ عنہ نے ایک پرندہ نغير (بلبل) رکھا ہوا تھا، ایک دن رسول اللہ ﷺ گئے تو دیکھا کہ ابوعمیر رضی اللہ عنہ غمگین ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ بتایا گیا کہ اس کی چڑیا (نغير) مر گئی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابا عمیر! نغير نے کیا کیا؟“

وضاحت:
➊ بچے کی بھی کنیت رکھی جا سکتی ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے بھی گھل مل جاتے تھے۔
➌ ابو عمیر رضی اللہ عنہ بچپن میں ہی فوت ہو گیا جب سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سفر پر تھے واپس آئے پہلے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کھانا پیش کیا سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ہم بستری کی اس کے بعد سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ابو عمیر رضی اللہ عنہ فوت ہو گیا تھا اسے دفن فرمائیں اس صبر و شکر کی تاریخی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اسی کی برکت سے اس رات سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو حمل ٹھہر گیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک اور بچہ عطا فرما دیا۔ [صحیح بخاری، رقم الحدیث: 5470,1301، صحیح مسلم، رقم الحديث: 2144]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 105
تخریج حدیث صحیح بخاری، الادب، باب الانبساط الى الناس، رقم : 6129، صحیح مسلم، الآداب، باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته، رقم : 2150۔