السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 104
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَدِ اسْتَثْنَى " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم کھاتے وقت «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» کہہ لیا، وہ قسم پوری کرنے سے مستثنیٰ ہو گیا۔“
وضاحت:
➊ پختہ قسم کھانے پر پوری کرنی واجب ہو جاتی ہے اگر قسم حلال کام پر کھائی جائے تو پوری کرے وگرنہ اس کا کفارہ ادا کرنا ہوتا ہے۔
➋ قسم کا کفارہ اوسط درجے کا دس مساکین کو کھانا کھلانا یا دس مساکین کو کپڑے ہدیہ کرنا، یا غلام آزاد کرنا ہوتا ہے جسے مذکورہ استطاعت نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے گا۔ [المائدہ: 89]
➌ اگر قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ دے تو حانث نہیں ہو گا۔ (حانث قسم توڑنے والے کو کہتے ہیں) کیونکہ اس نے ان شاء اللہ کہہ کر قسم پورا کرنے سے استثناء حاصل کر لیا ہے۔
➍ ایک حدیث میں ہے: «من حلف على يمين فقال إن شاء الله فهو بالخيار إن شاء أمضى وإن شاء ترك»
"جس نے ان شاء اللہ کہہ کر قسم کھائی اسے اختیار ہے پورا کرے یا قسم توڑ دے (اس پر کوئی کفارہ نہیں)۔" [سنن نسائي، رقم الحديث: 3820، وقال الالباني: صحيح]
➎ یہ اس صورت میں ہے جب ظاہراً ان شاء اللہ الفاظ کے ساتھ کہے اگر دل میں کہتا ہے تو اس کا اعتبار نہیں کیونکہ قسم ظاہری الفاظ سے منعقد ہوتی ہے حکم بھی ظاہر پر لگتا ہے لفظ ان شاء اللہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم حتمی نہیں اگر پوری کر سکا تو ٹھیک وگرنہ اللہ نے یہی چاہا تھا اس لیے پورا کرنا ضروری نہیں۔
➏ اگر پہلے سے ہی قسم توڑنے کا ارادہ ہے مخالف کو دھوکا دینے کے لیے ان شاء اللہ کو بطور ڈھال استعمال کرتا ہے تو یہ بڑا گناہ ہے۔
➐ قسم صرف اللہ کے نام وصفات کی کھائی جا سکتی ہے قرآن کی قسم جائز ہے کیونکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ اللہ کی صفت ہے۔ مخلوق کی قسم کھانا شرک ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کعبہ کی قسم کھاتے سنا تو اس کو مخاطب کر کے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے سنا ہے: جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ [سنن ابي داؤد، رقم الحديث: 3251، وقال الالباني صحيح سنن ترمذي، رقم الحديث: 1535، وقال حسن]
➋ قسم کا کفارہ اوسط درجے کا دس مساکین کو کھانا کھلانا یا دس مساکین کو کپڑے ہدیہ کرنا، یا غلام آزاد کرنا ہوتا ہے جسے مذکورہ استطاعت نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے گا۔ [المائدہ: 89]
➌ اگر قسم کھاتے وقت ان شاء اللہ کہہ دے تو حانث نہیں ہو گا۔ (حانث قسم توڑنے والے کو کہتے ہیں) کیونکہ اس نے ان شاء اللہ کہہ کر قسم پورا کرنے سے استثناء حاصل کر لیا ہے۔
➍ ایک حدیث میں ہے: «من حلف على يمين فقال إن شاء الله فهو بالخيار إن شاء أمضى وإن شاء ترك»
"جس نے ان شاء اللہ کہہ کر قسم کھائی اسے اختیار ہے پورا کرے یا قسم توڑ دے (اس پر کوئی کفارہ نہیں)۔" [سنن نسائي، رقم الحديث: 3820، وقال الالباني: صحيح]
➎ یہ اس صورت میں ہے جب ظاہراً ان شاء اللہ الفاظ کے ساتھ کہے اگر دل میں کہتا ہے تو اس کا اعتبار نہیں کیونکہ قسم ظاہری الفاظ سے منعقد ہوتی ہے حکم بھی ظاہر پر لگتا ہے لفظ ان شاء اللہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم حتمی نہیں اگر پوری کر سکا تو ٹھیک وگرنہ اللہ نے یہی چاہا تھا اس لیے پورا کرنا ضروری نہیں۔
➏ اگر پہلے سے ہی قسم توڑنے کا ارادہ ہے مخالف کو دھوکا دینے کے لیے ان شاء اللہ کو بطور ڈھال استعمال کرتا ہے تو یہ بڑا گناہ ہے۔
➐ قسم صرف اللہ کے نام وصفات کی کھائی جا سکتی ہے قرآن کی قسم جائز ہے کیونکہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ اللہ کی صفت ہے۔ مخلوق کی قسم کھانا شرک ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کعبہ کی قسم کھاتے سنا تو اس کو مخاطب کر کے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے سنا ہے: جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ [سنن ابي داؤد، رقم الحديث: 3251، وقال الالباني صحيح سنن ترمذي، رقم الحديث: 1535، وقال حسن]