السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 106
عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ : يَقُولُونَ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبَةِ كَذَلِكَ , حَدَّثَنَاهُ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ : يَقُولُونَ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبَةِ كَذَلِكَ , حَدَّثَنَاهُ يُونُسُ , عَنْ سُفْيَانَ ، نَفْسِهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبَةِ ، أَنَّ رَجُلا اسْتَعَارَ بَعِيرًا مِنْ رَجُلٍ فَعَطَبَ ، فَأُتِيَ بِهِ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَوْقَفُوهُ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " يَغْرَمُ .نوید مجید طیب
عبد الرحمن بن السائبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے سے اونٹ استعمال کے لیے لیا تو اسے کمزور (یا زخمی) کر دیا، اسے مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس لایا گیا تو مروان رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلے کے لیے بھیج دیا، انہوں نے اس آدمی کو سپاہیوں کے درمیان کھڑا کیا اور استفسار کیا (یعنی مقدمہ سنا) پھر فیصلہ دیا کہ تاوان ادا کرے۔
وضاحت:
➊ اگر کوئی شخص چیز ادھار بغرض استعمال لیتا ہے تو اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے ضائع کرنے کی صورت میں چٹی ادا کرنی ہوگی۔
➋ سنن الکبریٰ بیہقی میں اس حدیث کو باب العاریہ مضمونہ کے تحت لایا گیا ہے۔ ایک حدیث غزوہ حنین سے متعلق بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے جنگی سامان ادھار لیا تھا واپسی کے وقت کچھ گم ہو گیا تو اس سے پوچھا: اگر آپ چاہیں تو ہم چٹی ادا کر دیں۔ انہوں نے چٹی لینے سے انکار کر دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضائع کرنے والا ذمہ دار ہے۔ [ابوداؤد: 3563]
➋ سنن الکبریٰ بیہقی میں اس حدیث کو باب العاریہ مضمونہ کے تحت لایا گیا ہے۔ ایک حدیث غزوہ حنین سے متعلق بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے جنگی سامان ادھار لیا تھا واپسی کے وقت کچھ گم ہو گیا تو اس سے پوچھا: اگر آپ چاہیں تو ہم چٹی ادا کر دیں۔ انہوں نے چٹی لینے سے انکار کر دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ضائع کرنے والا ذمہ دار ہے۔ [ابوداؤد: 3563]