حدیث نمبر: 103
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَلَّقَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال پاؤں باندھے اونٹ کے مالک جیسی ہے، اگر اس نے اس کی نگہداشت کی تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو وہ چلا جائے گا۔“

وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام فہم اور معاشرے کے حالات کے مطابق مثال دے کر بات سمجھایا کرتے تھے، اونٹ کو اگر کھول دیا جائے تو گم ہو جاتا ہے دور نکل جاتا ہے مالک کو بسا اوقات تلاش بسیار کے بعد مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا ہے ایسے ہی حافظ قرآن اگر قرآن کی مشق نہ کرے تو بھول جاتا ہے ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے کبھی جہد مسلسل سے دوبارہ یاد کر پاتا اور کبھی نام کا حافظ رہ جاتا ہے۔ «والله المستعان!»
➋ اللہ رب العزت نے جس انسان کو حفظ القرآن کی نعمت سے نوازا ہو اسے اس کی قدر کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 103
تخریج حدیث صحیح بخاری، فضائل القرآن، باب استذكار القرآن و تعاهده، رقم : 5031، صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب الامر بتعهد القرآن، رقم : 789۔