السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ لَيْلَتَهُ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ " ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " اقْرَأْ " فَقَرَأْتُ فَقَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ " .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان کو ایک دوسری قرآت میں پڑھتے سنا جو میری قراءت سے مختلف تھی حالانکہ میری قرات خود رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائی تھی، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اس کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گیا، تو میں اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے سورۃ الفرقان کی تلاوت اس قرات سے کرتے ہوئے سنا جو اس قرات سے مختلف ہے جو آپ ﷺ نے مجھے پڑھائی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: ”پڑھ۔“ اس نے اسی طریقے سے پڑھا جیسا کہ میں نے اسے پڑھتے سنا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح نازل ہوئی ہے۔“ پھر مجھے کہا: ”تم پڑھو۔“ میں نے پڑھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، پس ان میں سے جو قرآت تمہارے لیے آسان ہو اسی کے مطابق پڑھو۔“
➋ قرآن سات حروف میں نازل ہوا اس بارے میں ابن العربی رحمہ اللہ نے پینتیس اقوال نقل کیے ہیں اصح ترین بات یہی لگتی ہے کہ مختلف لہجے مراد ہیں عرب میں بعض حروف کے مختلف قبائل میں مختلف لہجے تھے آسانی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے عرب کے مختلف لہجوں کی اجازت عنایت فرمائی مثلاً ایک قبیلہ ﴿بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا﴾ اور دوسرا ﴿بَعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا﴾ پڑھتا ہے۔
➌ بعض نے مختلف قراتوں کو سات حروف سے تعبیر کیا ہے۔ سات حروف سے ہر صحابی رضی اللہ عنہ بھی علیحدہ علیحدہ واقف نہیں تھا اسی لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا۔ اس لیے سات حروف کی تفصیل حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں قرآن جمع کر دیا اور کہا جس لفظ کی قرآت میں اختلاف ہو جائے قریش کے لہجے میں لکھ دیں پھر بقیہ قراءات والے نسخہ جات ختم کرا دیے۔ [صحيح بخاري: 4987]
➍ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ انتہائی اچھا اقدام تھا وگرنہ عجمی جو کہ پہلے ہی مفتون قوم ہے ہر فتنے کو اپنی دہلیز پر دعوت دینے سے گریزاں نہ ہیں یہ سات قرآن بنا لیتے۔