حدیث نمبر: 101
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلاةِ وَأَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : أَمَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مَجِيدٌ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے تو سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہم نے خواہش کی کہ آپ سے سوال نہ کرتے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے کہا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِى الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اور سلام جیسا کہ تمہیں سکھا دیا گیا ہے۔“

وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [الاحزاب: 56]
"بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔"
اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ سلام تو ہمیں پتہ چل گیا جو کہ تشہد میں ہے السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهم صل على محمد... الخ» ، درود ابراہیمی سکھایا۔
➋ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقید حیات تھے صحابہ رضی اللہ عنہم خطاب کے صیغے ﴿أيها النبي﴾ سے سلام کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد «السلام على النبى صلى الله عليه وسلم» کہنے لگے یعنی لفظ «يا» کے بغیر کہتے تھے۔ [صحیح بخاری: 6265]
معلوم ہوا نماز کے علاوہ خطاب کے صیغہ کے بغیر «السلام على رسول الله» کہا جا سکتا ہے۔
➌ درود جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سکھایا وہ درود ابراہیمی ہے جو کہ مختلف الفاظ سے وارد ہوا ہے جبکہ سب الفاظ میں ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ موجود ہے نماز میں درود ابراہیمی کے علاوہ کوئی اور خود ساختہ درود پڑھنا بالکل جائز نہیں اصلی درود وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اور جعلی وہ ہے جو مولویوں نے خود گھڑ لیے مولوی تاج نے درود تاج بنا لیا نگینہ بی بی نے درود نگینہ گھڑ لیا امت محمدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پابند ہے نہ کہ مولوی تاج کی لہذا ایسے من گھڑت درود بالکل نہیں پڑھنے چاہئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے الفاظ سے لوگوں کو پھیرنے کے لیے یہ گھڑے گئے ہیں تمام مسلمانوں کو ایسی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
➍ صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسئلہ کا پتہ نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا کرتے تھے اپنی طرف سے شریعت سازی نہ کیا کرتے تھے۔ اگر آج بھی مسئلہ پتہ نہ ہو تو حدیث سے پوچھ لینا چاہیے اپنی طرف سے شریعت سازی نہیں کرنی چاہیے اور جو حدیث کم عقلی کے باعث سمجھ نہ آئے علماء سے سمجھ لینی چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَسْــٴَـلُـوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ [النحل: 43]
"اور اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے ہو۔"
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 101
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصلاة، باب الصلاة على النبي بعد التشهد، رقم : 405۔