أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " جِنَايَةُ الْمُكَاتَبِ فِي رَقَبَتِهِ، يَبْدَأُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتب کا جرم اس کے ذمہ ہے، اسی سے ابتدا کی جائے گی۔
وَبِإِسْنَادِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " جِرَاحَتُهُ جِرَاحَةُ عَبْدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب کا زخمی کرنا غلام کے زخمی کرنے کی مانند ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " جِرَاحَةُ الْمُكَاتَبِ جِرَاحَةُ عَبْدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مکاتب کا زخمی کرنا، غلام کے زخمی کرنے کی مانند ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: " إِذَا أُصِيبَ الْمُكَاتَبُ لَهُ قَوَدُهُ "، وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَأَنَّهُ مِنْ مَالِهِ، يُحْرِزُهُ كَمَا يُحْرِزُ مَالَهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". ⦗٥٧١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: كَمَا قَالَ عَطَاءٌ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: " الْجِنَايَةُ عَلَيْهِ مَالٌ مِنْ مَالِهِ، لَا يَكُونُ لِسَيِّدِهِ أَخْذُهَا بِحَالٍ، إِلَّا أَنْ يَمُوتَ قَبْلَ أَنْ يُؤَدِّيَ "..
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ نے کہا کہ جب مکاتب کو زخمی کیا گیا تو اس کا قصاص ہے، اور عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس کا مال ہے، اس کی بھی حفاظت کرنا اس کے ذمہ تھا جیسے وہ اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جیسا کہ عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ نے کہا: اس پر ہونے والے جرم کا معاوضہ اس کے مال میں سے ایک مال ہے، اس کے مالک کو کسی حال میں اسے لینے کا حق نہیں، الا یہ کہ وہ مکاتبت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جیسا کہ عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ نے کہا: اس پر ہونے والے جرم کا معاوضہ اس کے مال میں سے ایک مال ہے، اس کے مالک کو کسی حال میں اسے لینے کا حق نہیں، الا یہ کہ وہ مکاتبت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے۔