کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ طَاوُسٍ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ الرَّجُلَ ثُمَّ يَمُوتُ فَتَرِثُ ابْنَتُهُ ذَلِكَ الْمُكَاتَبَ فَيؤَدِّي كِتَابَتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ، ثُمَّ يَمُوتُ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " وَلَاؤُهُ لَهَا "، وَيَقُولُ: " مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُخَالِفَ عَنْ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ "، وَيَعْجَبُ مِنْ قَوْلِهِمْ: لَيْسَ لَهَا وَلَاءٌ..
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ کے والد (طاؤس رحمہ اللہ) کیا فرماتے ہیں کہ جب آدمی غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، اس مکاتبت کی بچی وارث ہو گی، وہ اپنی کتابت اس کو ادا کرے گا، پھر وہ آزاد کیا جائے گا، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، تو وہ فرماتے ہیں کہ ولاء اس بچی کی ہو گی۔ میرا گمان ہے کہ کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے گا اور ان کے قول سے تعجب ہے کہ اس کی ولاء نہ ہو گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21746
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَبِإِسْنَادِهِ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ لَهُ، وَتَرَكَ مُكَاتَبًا، فَصَارَ الْمُكَاتَبُ لِأَحَدِهِمَا، ثُمَّ قَضَى كِتَابَتَهُ لِلَّذِي صَارَ لَهُ فِي الْمِيرَاثِ، ثُمَّ مَاتَ الْمُكَاتَبُ، مَنْ يَرِثُهُ؟ قَالَ: " يَرِثَانِهِ جَمِيعًا ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ عَطَاءٌ: " رَجَعَ وَلَاؤُهُ إِلَى الَّذِي كَاتَبَهُ "، فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَبِقَوْلِ عَطَاءٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ نَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ يُكَاتِبُهُ الرَّجُلُ ثُمَّ يَمُوتُ السَّيِّدُ ثُمَّ يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ فَيُعْتَقُ بِالْكِتَابَةِ: إِنَّ وَلَاءَهُ لِلَّذِي عَقَدَ كِتَابَتَهُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَقُلْ بِقَوْلِهِ فِي قِسْمَةِ الْمُكَاتَبِ، قَالَ مِنْ قَبْلُ: إِنَّ الْقَسْمَ بَيْعٌ، وَبَيْعُ الْمُكَاتَبِ لَا يَجُوزُ..
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ایک آدمی فوت ہو گیا، اس نے دو بیٹے اور ایک مکاتب کو چھوڑا۔ پھر مکاتب دونوں میں سے ایک کے حصے میں آیا، اس نے اپنی کتابت اسی کو ادا کی جس کے حصے میں وہ میراث میں آیا تھا۔ پھر مکاتب فوت ہو گیا، اس کا وارث کون ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: وہ دونوں اس کے وارث ہیں، اور عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی ولاء اس کی طرف لوٹے گی جس نے اس سے کتابت کی تھی۔ میں نے یہ بات ان کے سامنے دوبارہ دہرائی تو انہوں نے کئی مرتبہ یہی کہا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ کے قول کے مطابق کہتے ہیں کہ جب ایک شخص نے کسی سے مکاتبت کی، پھر مالک فوت ہو گیا، پھر مکاتب نے اپنی کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کی تو ولاء اس کی ہو گی جس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے مکاتب کی تقسیم کے بارے میں ان کا قول اختیار نہیں کیا، کیونکہ وہ پہلے فرما چکے ہیں کہ تقسیم تو بیع ہے اور مکاتب کی بیع جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21747
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَلَهُ عَبْدٌ مُكَاتَبٌ وَلِلْمُتَوَفَّى بَنُونَ وَبَنَاتٌ؟ قَالَ: " يَرِثُونَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ، وَلَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا كَاتَبْنَ أَوْ أَعْتَقْنَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن ابی سلیمان رحمہ اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا، اس کا مکاتب غلام تھا، فوت ہونے والے کے بیٹے اور بیٹیاں تھیں تو جو کچھ اس (مکاتب) کے ذمہ ہے اس کے وارث عورتیں اور مرد سب ہوں گے، لیکن عورتیں ولاء کی وارث صرف اسی کی ہو سکتی ہیں جس سے انہوں نے خود کتابت کی ہو یا جسے آزاد کیا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21748
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ مَمْلُوكَهُ ثُمَّ يَمُوتُ وَيَتْرُكُ بَنِينَ رِجَالًا وَنِسَاءً فَيؤَدِّي الْمُكَاتَبُ إِلَيْهِمْ كِتَابَتَهُ، قَالَا: " الْوَلَاءُ لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ " وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقُولُ ذَلِكَ..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہما اللہ ایک ایسے آدمی کے متعلق فرماتے ہیں جو اپنے غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے اور اپنے پیچھے بیٹے اور عورت چھوڑتا ہے، تو مکاتب اپنی کتابت ان کو ادا کرتا ہے۔ وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ولاء صرف مردوں کو ملے گی، عورتوں کو نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21749
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ ثُمَّ مَاتَ الرَّجُلُ الَّذِي كَاتَبَ وَتَرَكَ رِجَالًا وَنِسَاءً، قَالَ: " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ مِنْ وَلَاءِ ⦗٥٧٢⦘ الْمُكَاتَبِ شَيْءٌ، وَالْمِيرَاثُ بَيْنَهُمْ "، يَعْنِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ..
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کتابت کی۔ مکاتبت کرنے والا شخص مر گیا، اس نے مرد اور عورتیں چھوڑیں۔ فرماتے ہیں کہ مکاتب کی ولاء سے عورتوں کو کچھ بھی نہ ملے گا، لیکن میراث مردوں اور عورتوں میں تقسیم ہو گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21750
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مُكَاتَبًا فَأَعْتَقَ الْوَرَثَةُ الْمُكَاتَبَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، لِمَنِ الْوَلَاءُ؟ قَالَ: " لِلْمُكَاتَبِ الْمَيِّتِ ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ آدمی فوت ہو جائے، اس کے مکاتب کو چھوڑا تو ورثاء نے مکاتب کو آزاد کر دیا تو ولاء کس کا حق ہے؟ فرمایا: میت کا حق ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21751
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»