کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مکاتب کے اپنی لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے اور مکاتبہ کے اپنے شوہر سے پیدا ہونے والے بچے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا "، - يَعْنِي: الْمُكَاتَبَةَ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کی اولاد اس کے مرتبہ میں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنّهُ سُئِلَ عَنْ بَيْعِ وَلَدِ الْمُكَاتَبَةِ، فَقَالَ: " وَلَدُهَا مِنْهَا، إِنْ عَتَقَتْ عَتَقَ، وَإِنْ رَقَّتْ رَقَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے مکاتبہ کی اولاد کی بیع کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اولاد اسی جیسی ہے، اگر مکاتبہ آزاد ہے تو اولاد بھی آزاد ہے، اگر وہ غلام ہے تو اولاد بھی غلام ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " يُبَاعُ وَلَدُهَا لِلْعِتْقِ، تَسْتَعِينُ بِهِ الْأُمُّ فِي مُكَاتَبَتِهَا ". وَقَوْلُ شُرَيْحٍ أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ اپنی کتابت کی مدد کے لیے اپنی اولاد کو آزادی کے لیے فروخت کرے، لیکن قاضی شریح رحمہ اللہ کا قول سفیان رحمہ اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " الْمُكَاتَبُ لَا يَشْتَرِطُ أَنَّ مَا وَلَدَتْ مِنْ وَلَدٍ فَإِنَّهُ فِي كِتَابَتِي ثُمَّ يُولَدُ؟ "، قَالَ: هُمْ فِي كِتَابَتِهِ ". وَقَالَ ذَلِكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ مکاتب یہ شرط نہیں رکھتا کہ جو اولاد پیدا ہو گی وہ میری کتابت میں ہو گی، پھر اولاد پیدا ہو جائے (تو کیا حکم ہے)؟ فرمایا: وہ اس کی کتابت میں شامل ہیں۔ عمرو بن دینار نے بھی یہی کہا۔
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَمَةً كُوتِبَتْ، ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدَيْنِ، ثُمَّ مَاتَتْ، فَسَأَلْتُ عَنْهَا عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: " إِنْ أَقَامَا بِكِتَابَةِ أُمِّهِمَا فَذَلِكَ لَهُمَا، فَإِنْ قَضَيَاهَا عَتَقَا ". وَقَالَ ذَلِكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ ایک لونڈی نے کتابت کی، پھر اس نے دو بچے جنم دیے، پھر وہ فوت ہو گئی، میں نے اس کے بارے میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر وہ دونوں اپنی ماں کی کتابت پر قائم رہیں تو یہ ان کا حق ہے، اور اگر وہ اسے ادا کر دیں تو آزاد ہو جائیں گے۔
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَقَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: " إِنْ كَاتَبَ وَلَا وَلَدَ لَهُ، ثُمَّ وُلِدَ لَهُ مِنْ سُرِّيَّةٍ لَهُ، فَمَاتَ أَبُوهُمْ لَمْ يُوضَعْ عَنْهُمْ شَيْءٌ، وَكَانُوا عَلَى كِتَابَةِ أَبِيهِمْ إِنْ شَاءُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا مُحِيَتْ كِتَابَةُ أَبِيهِمْ وَكَانُوا عَبِيدًا لَهُ ". كَذَا قَالُوا، وَنَحْنُ نَقُولُ: إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ أَوِ الْمُكَاتَبَةُ قَبْلَ أَدَاءِ مَالِ الْكِتَابَةِ مَاتَا رَقِيقَيْنِ، وَأَوْلَادُهُمَا رَقِيقٌ، اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي الْمُكَاتَبِ أَنَّهُ " عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے مکاتبت کی اور اولاد نہ تھی، پھر لونڈی سے اولاد ہو گئی، باپ فوت ہو گیا تو قیمت کم نہ کی جائے گی، وہ اپنے باپ کی مکاتبت پر ہی رہے گی، اگر چاہے تو کتابت ختم کر دی جائے اور وہ غلام رہیں۔
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جب مکاتب یا مکاتبہ اپنی رقم ادا کیے بغیر فوت ہو جائیں تو غلام ہی رہیں گے، ان کی اولاد بھی غلام ہو گی، استدلال اس حدیث سے ہے کہ ”اگر اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو گا وہ غلام ہی ہے“۔
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جب مکاتب یا مکاتبہ اپنی رقم ادا کیے بغیر فوت ہو جائیں تو غلام ہی رہیں گے، ان کی اولاد بھی غلام ہو گی، استدلال اس حدیث سے ہے کہ ”اگر اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو گا وہ غلام ہی ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " رَجُلٌ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ وَقَاطَعَهُ، فَكَتَمَهُ مَالًا لَهُ وَعَبِيدًا وَمَالًا غَيْرَ ذَلِكَ؟ "، قَالَ: هُوَ لِلسَّيِّدِ ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ایک آدمی نے اپنے غلام سے مکاتبت کی اور اس سے طے کر لیا، پھر غلام نے اپنا مال، غلام اور دوسرا مال اس سے چھپا لیا۔ فرماتے ہیں: یہ اس کے مالک کا ہوگا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " فَإِنْ كَانَ السَّيِّدُ قَدْ سَأَلَهُ مَالَهُ فَكَتَمَهُ؟ "، قَالَ: هُوَ لِسَيِّدِهِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " فَكَتَمَهُ وَلَدًا لَهُ مِنْ أَمَةٍ لَهُ، أَوْ لَمْ يَسْأَلْهُ "، قَالَ: هُوَ لِسَيِّدِهِ ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لَهُ: " أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ سَيِّدُهُ قَدْ عَلِمَ بِوَلَدِ الْعَبْدِ، فَلَمْ يَذْكُرْهُ السَّيِّدُ وَلَا الْعَبْدُ عِنْدَ الْكِتَابَةِ "؟ قَالَ: فَلَيْسَ فِي كِتَابَتِهِ، هُوَ مَالُ سَيِّدِهِمَا ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: اگر مالک نے غلام سے مال کا سوال کیا اور اس نے چھپا لیا تو فرمایا: وہ مالک کا ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا: اگر اس نے لونڈی کا بچہ چھپا لیا یا اس کے بارے میں سوال نہ ہوا تو فرمایا: وہ بھی مالک کا ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر مالک کو غلام کے بچے کا علم ہو لیکن کتابت کے وقت اس کا تذکرہ نہیں ہوا، فرماتے ہیں: یہ بھی مالک کا مال ہے۔