السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب بين قوم لا يكون لأحدهم أن يأخذ منه شيئا دون صاحبه. باب: کئی لوگوں کے درمیان مشترک مکاتب کا بیان، ان (مالکوں) میں سے کسی ایک کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے ساتھی کو چھوڑ کر اکیلا ہی اس سے کچھ وصول کرے۔
حدیث نمبر: 21698
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " مُكَاتَبٌ بَيْنَ قَوْمٍ، فَأَرَادُوا أَنْ يُقَاطِعَ بَعْضَهُمْ "، قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مِثْلُ مَا قَاطَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَبِهَذَا نَأْخُذُ، فَلَا يَكُونُ لِأَحَدِ الشُّرَكَاءِ فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْمُكَاتَبِ شَيْئًا دُونَ صَاحِبِهِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک قوم کا مکاتب غلام ہے، بعض بعض سے مقاطع چاہتے ہیں؟ فرمایا: نہیں، بلکہ جب سب کے لیے ایک جیسا مال ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپنے مکاتب سے اپنے شرکاء کے بغیر کوئی چیز وصول نہ کرے۔