حدیث نمبر: 21695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَيْجٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ صُبَيْحِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: " كَاتَبْتُ عَلَى عِشْرِينَ أَلْفًا عَلَى أَنْ لَا أَخْرُجَ مِنَ الْكُوفَةِ، فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: جَعَلُوا عَلَيْكَ عِشْرِينَ أَلْفًا، وَضَيَّقُوا عَلَيْكَ الْأَرْضَ؟ اخْرُجْ، قَالَ: وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جہیم صبیح بن قاسم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ٢٠ ہزار پر مکاتبت کی کہ کوفہ سے نہ نکلوں گا۔ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: ٢٠ ہزار اور آپ پر زمین تنگ کر دی گئی؟ سفر کرو، تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے ایسا ہی کہا۔
حدیث نمبر: 21696
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا جُبَارَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ صُبَيْحٍ، قَالَ: " كَاتَبْتُ عَلَى عَشَرَةِ آلَافٍ، وَشُرِطَ عَلَيَّ أَنْ لَا أَخْرُجَ، فَخَاصَمَنِي إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ: أَرَدْتَ أَنْ تَضِيقَ عَلَيْكَ الدُّنْيَا؟ فَاخْرُجْ ".
حافظ ثناء اللہ
صبیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے دس ہزار پر مکاتبت کی اور شرط رکھی گئی کہ میں سفر نہ کروں گا، میرا کیس قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا تو وہ فرمانے لگے: کیا تیرا ارادہ ہے کہ دنیا تیرے اوپر تنگ کر دی جائے؟ سفر کرو۔
حدیث نمبر: 21697
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا السَّرَّاجٌ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " شُرِطَ شَرْطٌ بَاطِلٌ، يَخْرُجُ إِنْ شَاءَ ". وَرُوِّينَاهُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسی شرط باطل ہے، اگر وہ چاہے تو سفر کرے۔