أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي عَبْدٍ بَيْنَ ⦗٥٥٩⦘ شُرَكَاءَ: " لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يُكَاتِبَ دُونَ أَصْحَابِهِ، فَإِنْ فَعَلَ رُدَّ مَا قُبِضَ، فَاقْتَسَمُوهُ، وَالْعَبْدُ بَيْنَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ مشترک غلام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی اپنے ساتھیوں کے بغیر غلام سے مکاتبت نہ کرے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ سب میں تقسیم کر دیا جائے گا اور غلام پھر مشترک۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي عَبْدٍ بَيْنَ ثَلَاثَةٍ كَاتَبَهُ أَحَدُهُمْ، قَالَ: " يُؤْخَذُ مِنْهُ مَا أَخَذَ، وَيُقْسَمُ بَيْنَ شُرَكَائِهِ، وَالْعَبْدُ بَيْنَهُمْ لَا يَجُوزُ كِتَابَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ تین آدمیوں کے مشترک غلام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک نے مکاتبت کر لی، اس سے مال لے کر سب میں تقسیم کر دیا گیا اور غلام مشترک رہا، اس کی کتابت جائز نہیں ہے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جتنا آزاد کیا گیا اتنا حکم نافذ کرنا چاہیے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي عَبْدٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، قَالَ: " كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُكَاتِبَ أَحَدُهُمَا إِلَّا بِإِذْنِ شَرِيكِهِ، فَإِنْ فَعَلَ قَاسَمَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ دو آدمیوں کے مشترک غلام کے بارے میں فرماتے ہیں: کوئی ایک اپنے شریک کی اجازت کے بغیر مکاتبت نہ کرے۔ اگر کرے گا تو دونوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے گی۔