حدیث نمبر: 21688
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ - يَعْنِي: لِعَطَاءٍ: أَفْلَسَ مُكَاتَبِي وَتَرَكَ مَالًا، وَتَرَكَ دَيْنًا لِلنَّاسِ عَلَيْهِ لَمْ يَدَعْ لَهُ وَفَاءً، أَبْدَأُ بِالْحَقِّ لِلنَّاسِ قَبْلَ كِتَابَتِي؟ قَالَ: " نَعَمْ "، وَقَالَهَا لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَمَا أُحَاصُّهُمْ بِنَجْمٍ مِنْ نُجُومِهِ حَلَّ عَلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ مَلَكَ عَمَلَهُ فِي سَنَتِهِ؟ قَالَ: " لَا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، فَإِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ بُدِئَ بِدُيُونِ النَّاسِ، لِأَنَّهُ مَاتَ رَقِيقًا، وَبَطَلَتِ الْكِتَابَةُ، وَلَا دَيْنَ لِلسَّيِّدِ عَلَيْهِ، وَمَا بَقِيَ مَالٌ لِلسَّيِّدِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: میرا مکاتب غلام مفلس ہو گیا، اس کا مال بھی ہے اور لوگوں کا قرض بھی اس کے ذمہ ہے، تو میں اپنی مکاتبت سے پہلے لوگوں کا قرض ادا کروں؟ فرمایا: ہاں۔ ابن جریج رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: میں ان کے مال کے حصے بنا دیتا ہوں، جو سال کے اندر وہ کام کرتا رہا؟ فرمایا: نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مکاتب کے فوت ہونے کی صورت میں پہلے لوگوں کے قرض اتارو؛ کیونکہ موت کی وجہ سے کتابت باطل ہو گی اور سردار کے اوپر قرض نہ ہو گا، باقی ماندہ مال مالک کا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مکاتب کے فوت ہونے کی صورت میں پہلے لوگوں کے قرض اتارو؛ کیونکہ موت کی وجہ سے کتابت باطل ہو گی اور سردار کے اوپر قرض نہ ہو گا، باقی ماندہ مال مالک کا ہے۔
حدیث نمبر: 21689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " يَبْدَأُ بِالدَّيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرض سے ابتدا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 21690
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يَقُولُ: يُبْدَأُ بِالْمُكَاتَبَةِ قَبْلَ الدَّيْنِ، أَوْ يُشْرَكُ بَيْنَهُمَا " شَكَّ شُعْبَةُ، فَقَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: أَخْطَأَ شُرَيْحٌ وَإِنْ كَانَ قَاضِيًا، قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ: " يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: پہلے کتابت پھر قرض ادا کیا جائے یا دونوں کو اکٹھا۔ شعبہ کو شک ہے، ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے غلطی کی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرض سے ابتدا کی جائے گی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ قرض کی ادائیگی میں مبتلا کرتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ قرض کی ادائیگی میں مبتلا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 21691
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُرَيْحٍ، فِي الْمُكَاتَبِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، قَالَ: " يُبْدَأُ بِدَيْنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب فوت ہو جائے اور اس پر قرض ہو تو قرض کی ادائیگی سے ابتدا کرنی چاہیے۔