حدیث نمبر: 21680
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ - يَعْنِي: ⦗٥٥٦⦘ لِعَطَاءٍ: الْمُكَاتَبُ يَمُوتُ، وَلَهُ وَلَدٌ أَحْرَارٌ، وَيَدَعُ أَكْثَرَ مِمَّا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ؟ قَالَ: يَقْضِي عَنْهُ مَا بَقِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ، وَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَلِبَنِيهِ، فَقُلْتُ: أَبَلَغَكَ هَذَا عَنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: زَعَمُوا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْضِي بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: مکاتب فوت ہو جائے اور اس کی اولاد آزاد ہو اور وہ اپنی مکاتبت سے زیادہ مال چھوڑے، تو انہوں نے فرمایا: فیصلہ کیا جائے گا کہ جتنی رقم باقی ہے وہ ادا کی جائے اور باقی اس کے بیٹوں کو دے دی جائے۔ میں نے کہا: کیا آپ کو اس طرح کی خبر ملی ہے؟ کہنے لگے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسی طرح فیصلہ فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 21681
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يُقْضَى عَنْهُ مَا عَلَيْهِ، ثُمَّ لِبَنِيهِ مَا بَقِيَ ". وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: مَا أَرَاهُ لِبَنِيهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي: أَنَّهُ لِسَيِّدِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَبِقَوْلِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ هَذَا نَقُولُ، وَهُوَ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَمَّا مَا رُوِيَ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَهُوَ رَوَى عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ: " يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى "، وَلَا أَدْرِي أَيَثْبُتُ عَنْهُ أَمْ لَا؟ وَإِنَّمَا نَقُولُ بِقَوْلِ زَيْدٍ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جو اس کے ذمے ہے وہ رقم ادا کی جائے، باقی اس کے بیٹوں کو ادا کی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ مکاتب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جتنی رقم اس نے ادا کر دی اتنا وہ آزاد کیا جائے گا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان سے ثابت ہے یا نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ مکاتب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جتنی رقم اس نے ادا کر دی اتنا وہ آزاد کیا جائے گا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان سے ثابت ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 21682
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فِي الْمُكَاتَبِينَ، قَالَ: " شُرُوطُهُمْ بَيْنَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتبوں کے بارے میں ان کی آپس کی شرطیں ہیں، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ غلام ہی ہے جب اس کے ذمہ ایک درہم بھی ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی ادائیگی کے اعتبار سے وہ آزاد ہوگا۔
حدیث نمبر: 21683
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ، لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام ہی ہے جب تک اس کے ذمے ایک درہم بھی باقی ہے، نہ وہ وارث ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کا وارث ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکاتب کا مال اس کی ادائیگی کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا، جو ادا کر دیا اس کے حساب سے اس کے ورثاء کو ملے گا، باقی آزاد کرنے والوں کو اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکاتب کا مال آزاد کرنے والوں کو ملے گا اور باقی ماندہ ورثاء کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 21684
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَقَدْ أَدَّى طَائِفَةً مِنْ كِتَابَتِهِ وَتَرَكَ مَالًا هُوَ أَفْضَلَ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، قَالَ: " مَالُهُ وَمَا تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لِسَيِّدِهِ، لَيْسَ لِوَرَثَتِهِ مِنْ مَالِهِ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکاتب مر جائے اور اپنی کتابت کا کچھ حصہ ادا کر دیا ہو اور مال چھوڑا ہو تو یہ اس کی کتابت کا افضل ترین مال ہے، اس کا مال اور ترکہ سردار کے لیے ہے، وارث کو کچھ بھی نہ ملے گا۔
حدیث نمبر: 21685
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ مُكَاتَبٌ وَلِمُكَاتَبِهِ وَلَدٌ مِنْ وَلِيدَةٍ لَهُ، وَكَانَ قَدْ أَدَّى مِنْ كِتَابَتِهِ خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَمَاتَ، فَقَبَضَ مَالَهُ كُلَّهُ، وَلَمْ يَجْعَلْ لِوَلَدِهِ شَيْئًا، وَاسْتَرَقَّ وَلَدَهُ، وَقَبَضَ مَالَهُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ایک مکاتب تھا، جس کی اولاد ان کی لونڈی سے تھی۔ اس نے کتابت کے ۱۵ ہزار ادا کر دیے، پھر وہ فوت ہو گیا تو انہوں نے اس کا مال قبضے میں کر لیا، اولاد کو کچھ نہ دیا، اولاد کو غلام بنایا اور ان کا مال بھی قبضے میں لے لیا۔
حدیث نمبر: 21686
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا، فَهُوَ لِمَوَالِيهِ، وَلَيْسَ لِوَرَثَتِهِ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب مکاتب فوت ہو جائے تو مال آزاد کرنے والوں کا ہے، ورثاء کو کچھ بھی نہ ملے گا۔“
حدیث نمبر: 21687
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ وَفَاءً يُعْطَى مَوَالِيهِ مَالَهُمْ، وَمَا بَقِيَ كَانَ لِوَرَثَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
معبد جہنی رحمہ اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکاتب فوت ہو جائے اور اتنا مال چھوڑے جو کتابت کو ادا کر دے، تو اگر باقی بچے تو ورثاء کو دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی ہے وہ غلام ہی ہے۔