کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس حدیث کا بیان جو اس مکاتب سے پردہ کرنے کے بارے میں مروی ہے جس کے پاس ادائیگی کے لیے مال موجود ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مُكَاتَبٍ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ ". ⦗٥٥٠⦘.
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک کے مکاتب کے پاس قیمت موجود ہو تو وہ اس سے پردہ کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مُكَاتَبُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: إِنِّي لَأَقُودُ بِهَا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِالْأَبْوَاءِ قَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا نَبْهَانُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ بَقِيَّةَ كِتَابَتَكِ لِابْنِ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَعَنْتُهُ بِهِ فِي نِكَاحِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللهِ، لَا أُؤَدِّيهِ إِلَيْهِ أَبَدًا، قَالَتْ: إِنْ كَانَ أَنَّ مَا بِكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَيَّ أَوْ تَرَانِي؟ فَوَاللهِ لَا تَرَانِي أَبَدًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمُكَاتَبِ مَا يُؤَدِّي فَاحْتَجِبْنَ مِنْهُ ". وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: وَلَمْ أَحْفَظْ عَنْ سُفْيَانَ أَنَّ الزُّهْرِيَّ سَمِعَهُ مِنْ نَبْهَانَ وَلَمْ أَرَ مَنْ رَضِيتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُثْبِتُ وَاحِدًا مِنْ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ". يُرِيدُ حَدِيثَ نَبْهَانَ وَحَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ ". وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِنَّمَا رَوَى حَدِيثَ عَمْرٍو مُنْقَطِعًا، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ نَبْهَانَ قَدْ ذَكَرَ فِيهِ مَعْمَرٌ سَمَاعَ الزُّهْرِيِّ مِنْ نَبْهَانَ، إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ وَمُسْلِمًا صَاحِبَيِ الصَّحِيحِ لَمْ يُخَرِّجَا حَدِيثَهُ فِي الصَّحِيحِ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَدَالَتُهُ عِنْدَهُمَا، أَوْ لَمْ يَخْرُجْ مِنْ حَدِّ الْجَهَالَةِ بِرِوَايَةِ عَدْلٍ عَنْهُ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ الزُّهْرِيِّ عَنْهُ، إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا، وَهُوَ فِيمَا رَوَاهُ قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ مُكَاتَبٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ يُقَالُ لَهُ نَبْهَانُ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ. هَكَذَا قَالَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ، وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ رَوَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ مُكَاتَبٌ يُقَالُ لَهُ نَبْهَانُ. وَرَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ عَنْهُ، فَعَادَ الْحَدِيثُ إِلَى رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ. ⦗٥٥١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ إِنْ كَانَ أَمَرَهَا بِالْحِجَابِ مِنْ مُكَاتَبِهَا إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي عَلَى مَا عَظَّمَ اللهُ بِهِ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ رَحِمَهُنَّ اللهُ، وَخَصَّصَهُنَّ بِهِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْنَ، ثُمَّ تَلَا الْآيَاتِ فِي اخْتِصَاصِهِنَّ بِأَنْ جَعَلَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَهُنَّ أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَى امْرَأَةٍ سِوَاهُنَّ أَنْ تَحْتَجِبَ مِمَّنْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ نِكَاحُهَا، وَكَانَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ قَالَهُ: " إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ " - يَعْنِي: أَزْوَاجَهُ خَاصَّةً، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَمَعَ هَذَا، إِنَّ احْتِجَابَ الْمَرْأَةِ مِمَّنْ لَهُ أَنْ يَرَاهَا وَاسِعٌ لَهَا، وَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي: سَوْدَةَ أَنْ تَحْتَجِبَ مِنْ رَجُلٍ قَضَى أَنَّهُ أَخُوهَا، وَذَلِكَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ لِلِاحْتِيَاطِ، وَأَنَّ الِاحْتِجَابَ مِمَّنْ لَهُ أَنْ يَرَاهَا مُبَاحٌ. وَقَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَيْجٍ فِي مَعْنَاهُ: هَذَا لِيُحَرِّكَهُ احْتِجَابُهُنَّ عَنْهُ عَلَى تَعْجِيلِ الْأَدَاءِ، وَالْمَصِيرِ إِلَى الْحُرِّيَةِ، وَلَا يَتْرُكُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ دُخُولِهِ عَلَيْهِنَّ..
حافظ ثناء اللہ
زہری کہتے ہیں: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام نبہان نے مجھے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بیداء یا ابواء کے مقام پر ان کی سواری کو لے کر چل رہا تھا۔ کہنے لگیں: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں نبہان ہوں۔ کہتی ہیں: میں نے تیری مکاتبت کا بقیہ حصہ اپنے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن ابی امیہ کے لیے چھوڑ دیا ہے، میں نے اس کے نکاح میں اس سے اس کی مدد کی ہے۔ نبہان کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی ادا نہیں کروں گا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اگر تیرا یہ ارادہ ہے کہ تو مجھے دیکھے تو اللہ کی قسم! تو مجھے ہرگز دیکھ نہ سکے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”جب مکاتب کے پاس ادا کرنے کی قیمت موجود ہو تو تم اس سے پردہ کرو۔“
(ب) عمرو بن شعیب نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام سے 100 اوقیہ پر مکاتبت کر لی، باقی صرف 10 اوقیہ بچے تو وہ غلام ہی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اہل علم میں سے کسی ایسے شخص کو، جسے میں پسند کرتا ہوں، ان دونوں حدیثوں (نبہان کی حدیث اور عمرو بن شعیب کی حدیث) میں سے کسی ایک کو بھی ثابت قرار دیتے نہیں دیکھا۔ امام بخاری اور امام مسلم نے نبہان کی حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، گویا ان دونوں کے نزدیک اس کی عدالت ثابت نہیں ہوئی، یا کسی عادل راوی کے اس سے روایت کرنے کے ذریعے وہ مجہول ہونے کی حد سے نہیں نکلا۔
(ب) عمرو بن شعیب نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام سے 100 اوقیہ پر مکاتبت کر لی، باقی صرف 10 اوقیہ بچے تو وہ غلام ہی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اہل علم میں سے کسی ایسے شخص کو، جسے میں پسند کرتا ہوں، ان دونوں حدیثوں (نبہان کی حدیث اور عمرو بن شعیب کی حدیث) میں سے کسی ایک کو بھی ثابت قرار دیتے نہیں دیکھا۔ امام بخاری اور امام مسلم نے نبہان کی حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، گویا ان دونوں کے نزدیک اس کی عدالت ثابت نہیں ہوئی، یا کسی عادل راوی کے اس سے روایت کرنے کے ذریعے وہ مجہول ہونے کی حد سے نہیں نکلا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ سَمْعَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَتْ نَبْهَانَ مُكَاتَبًا لَهَا، فَقَالَتِ: ادْفَعْ مَا بَقِيَ مِنْ كِتَابَتِكَ إِلَى ابْنِ أَخِي ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَإِنِّي قَدْ أَعَنْتُهُ بِهَا، ثُمَّ لَا تُكَلِّمُنِي إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، فَبَكَى نَبْهَانُ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: " إِذَا كَاتَبَتْ إِحْدَاكُنَّ عَبْدَهَا فَلْيَرَهَا مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ كِتَابَتِهِ، فَإِذَا قَضَاهَا فَلَا تُكَلِّمْنَ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ". هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرِوَايَةُ الثِّقَاتِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبہان کو مکاتب بنا کر فروخت کر دیا اور کہنے لگیں: مکاتبت کی باقی رقم میرے بھتیجے ابن عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہما کو دے دینا، میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں اور پھر آئندہ پردے کے پیچھے سے مجھ سے کلام رکھنا۔ نبہان رو پڑا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے غلام سے مکاتبت کر لے تو مکاتبت کی رقم کے ہوتے ہوئے وہ اس کو دیکھ سکتا ہے۔ جب رقم پوری ہو جائے تو پردے کے پیچھے سے کلام کیا جائے۔“
اسی طرح اسے عبداللہ بن زیاد بن سمعان نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اور زہری سے ثقہ راویوں کی روایت اس کے خلاف ہے۔
اسی طرح اسے عبداللہ بن زیاد بن سمعان نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اور زہری سے ثقہ راویوں کی روایت اس کے خلاف ہے۔