السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الحديث الذي روي في الاحتجاب، عن المكاتب إذا كان عنده ما يؤدي. باب: اس حدیث کا بیان جو اس مکاتب سے پردہ کرنے کے بارے میں مروی ہے جس کے پاس ادائیگی کے لیے مال موجود ہو۔
حدیث نمبر: 21664
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ سَمْعَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَتْ نَبْهَانَ مُكَاتَبًا لَهَا، فَقَالَتِ: ادْفَعْ مَا بَقِيَ مِنْ كِتَابَتِكَ إِلَى ابْنِ أَخِي ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَإِنِّي قَدْ أَعَنْتُهُ بِهَا، ثُمَّ لَا تُكَلِّمُنِي إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، فَبَكَى نَبْهَانُ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: " إِذَا كَاتَبَتْ إِحْدَاكُنَّ عَبْدَهَا فَلْيَرَهَا مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ كِتَابَتِهِ، فَإِذَا قَضَاهَا فَلَا تُكَلِّمْنَ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ". هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرِوَايَةُ الثِّقَاتِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِخِلَافِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبہان کو مکاتب بنا کر فروخت کر دیا اور کہنے لگیں: مکاتبت کی باقی رقم میرے بھتیجے ابن عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہما کو دے دینا، میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں اور پھر آئندہ پردے کے پیچھے سے مجھ سے کلام رکھنا۔ نبہان رو پڑا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے غلام سے مکاتبت کر لے تو مکاتبت کی رقم کے ہوتے ہوئے وہ اس کو دیکھ سکتا ہے۔ جب رقم پوری ہو جائے تو پردے کے پیچھے سے کلام کیا جائے۔“