کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مدبر غلام کا ایک تہائی مال (ترکہ) میں سے آزاد ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ: كُنْتُ أُحَدِّثُ بِهِ مَرْفُوعًا فَقَالَ لِي أَصْحَابِي: لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَوَقَفْتُهُ، وَالْحُفَّاظُ يَقِفُونَهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ "..
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبر غلام (ترکے کے) تہائی حصے سے آزاد ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھ سے علی بن ظبیان نے کہا: میں اسے مرفوعاً بیان کیا کرتا تھا تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: یہ مرفوع نہیں، بلکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، تو میں نے اسے موقوف کر دیا۔ اور حفاظ اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہی بیان کرتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھ سے علی بن ظبیان نے کہا: میں اسے مرفوعاً بیان کیا کرتا تھا تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: یہ مرفوع نہیں، بلکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، تو میں نے اسے موقوف کر دیا۔ اور حفاظ اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہی بیان کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا أَبِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ اللَّبَقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ ظَبْيَانَ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ كَمَا رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مدبر غلام (ترکے کے) تہائی حصے سے آزاد ہوتا ہے۔“
صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف (ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول) ہے، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے۔
صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف (ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول) ہے، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُؤَمَّلٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثُّلُثِ..
حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد قرار دیا (یعنی مدبر بنایا) تو نبی ﷺ نے اسے (ترکے کے) تہائی حصے میں شمار کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، وَالْغَزِّيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُهُ مِنَ الثُّلُثِ..
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اسے (یعنی مدبر کو ترکے کے) تہائی حصے میں شمار کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " يُعْتِقُ مِنْ ثُلُثِهِ ". وَرُوِّينَا ذَلِكَ عَنْ شُرَيْحٍ وَإِبْرَاهِيمَ..
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتے تھے: (مدبر) اس کے تہائی (ترکے) میں سے آزاد ہو گا۔