أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَا يُبَاعُ الْمُدَبَّرُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کو فروخت نہ کیا جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَا يُبَاعُ الْمُدَبَّرُ ". ⦗٥٢٩⦘ هَذَا الصَّحِيحُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ مَوْقُوفًا، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ..
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کو فروخت نہ کیا جائے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی بات ان کے اپنے قول (موقوف) کے طور پر صحیح ہے، اور اسے مرفوعاً بھی ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی بات ان کے اپنے قول (موقوف) کے طور پر صحیح ہے، اور اسے مرفوعاً بھی ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ الْكَاتِبُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَجَمَاعَةٌ قَالُوا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَبُو مُعَاوِيَةَ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُدَبَّرُ لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ، وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ ". قَالَ عَلِيٌّ: لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا مِنْ قَوْلِهِ، وَلَا يَثْبُتُ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مدبر غلام کو فروخت اور ہبہ نہ کیا جائے گا، اور وہ (ترکے کے) تہائی حصے سے آزاد ہوتا ہے۔“
امام علی (دارقطنی) رحمہ اللہ نے فرمایا: اسے عبیدہ بن حسان کے علاوہ کسی نے مسند بیان نہیں کیا اور وہ ضعیف ہے، دراصل یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول (موقوف) ہے، اور مرفوعاً ثابت نہیں ہے۔
امام علی (دارقطنی) رحمہ اللہ نے فرمایا: اسے عبیدہ بن حسان کے علاوہ کسی نے مسند بیان نہیں کیا اور وہ ضعیف ہے، دراصل یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول (موقوف) ہے، اور مرفوعاً ثابت نہیں ہے۔