السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر من الثلث. باب: مدبر غلام کا ایک تہائی مال (ترکہ) میں سے آزاد ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21573
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ: كُنْتُ أُحَدِّثُ بِهِ مَرْفُوعًا فَقَالَ لِي أَصْحَابِي: لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَوَقَفْتُهُ، وَالْحُفَّاظُ يَقِفُونَهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ "..حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مدبر غلام (ترکے کے) تہائی حصے سے آزاد ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھ سے علی بن ظبیان نے کہا: میں اسے مرفوعاً بیان کیا کرتا تھا تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: یہ مرفوع نہیں، بلکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، تو میں نے اسے موقوف کر دیا۔ اور حفاظ اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہی بیان کرتے ہیں۔