حدیث نمبر: 20975
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا رَامِيًا، فَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَدْعُونِي فَيَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا يَا خَالِدُ نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: تَعَالَ أُحَدِّثُكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ، فَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللهْوِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا ". ⦗٣٦٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مَزَيْدَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ خالد بن زید رحمہ اللہ نے مجھے بیان کیا کہ میں تیر انداز تھا تو عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مجھے بلایا کرتے تھے کہ: ”خالد! آؤ ہم تیر اندازی کریں۔“ ایک دن مجھے تاخیر ہوگئی تو وہ کہنے لگے: ”آؤ میں تمہیں وہ بات بیان کروں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بیان فرمائی تھی یا میں وہ بات کہوں جو رسول اللہ ﷺ نے کہی تھی۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین بندوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: تیر بنانے والا جس کا بھلائی کا ارادہ ہو، تیر اندازی کرنے والا اور تیر پکڑانے والا۔ تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا مجھے شہسواری سے زیادہ محبوب ہے۔ کھیل صرف تین طرح کے ہیں: اپنے گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے کھیلنا اور تیر اندازی کرنا۔ جس نے تیر اندازی سیکھ کر اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا، تو اس نے ایک نعمت کی ناشکری کی۔“
حدیث نمبر: 20976
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَزْرَقِ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. قَالَ: " وَكُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلِمَهُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " كَذَا فِي كِتَابِي: عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تمام وہ کھیل جو آدمی کھیلتا ہے باطل ہیں، 1 لیکن تیر اندازی کرنا 2 گھوڑے کو سدھانا 3 اپنی بیوی سے کھیلنا یہ حق ہے۔ جس نے تیر اندازی کو ترک کر دیا تو اس نے اپنے سیکھے ہوئے کام کی بے قدری کی۔“
حدیث نمبر: 20977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " دَعْهُمَا "، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَقَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ "، حَتَّى إِذَا مَلَلْتُ قَالَ: " حَسْبُكِ؟ "، قُلْتُ، نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبِي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَيُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو بچیاں گانے والی تھیں، جو جنگِ بعاث کے متعلق اشعار پڑھ رہی تھیں۔ آپ ﷺ لیٹ گئے اور چہرہ پھیر لیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا: یہ شیطانی ساز ہے، رسول اللہ ﷺ کے پاس! تو نبی ﷺ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ان دونوں کو چھوڑ دو۔“ جب وہ غافل ہوئے تو میں نے چپکے سے دونوں کو نکال دیا۔ فرماتی ہیں: جب عید کا دن تھا اس دن سودانی تیروں اور نیزوں وغیرہ سے کھیل رہے تھے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ ﷺ کے رخسار پر تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے بنو ارفدہ! تیر اندازی کو لازم پکڑو۔“ یہاں تک کہ میں تھک گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کافی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ۔“
حدیث نمبر: 20978
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عِيدًا بِالْأَنْبَارِ فَقَالَ: " مَا لِي لَا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ؟ كَانُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُونَهُ ". قَالَ يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ: التَّقْلِيسُ أَنْ تَقْعُدَ الْجَوَارِي وَالصِّبْيَانُ عَلَى أَفْوَاهِ الطُّرُقِ يَلْعَبُونَ بِالطَّبْلِ وَغَيْرِ ذَلِكَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ فِي الْعِيدَيْنِ، يَعْنِي ضَرْبَ الدُّفِّ عِنْدَ الِانْصِرَافِ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ فَقَالَ: زِيَادُ بْنُ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی حضرت عیاض اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ انبار میں عید کے دن حاضر ہوئے۔ فرمانے لگے: تم کھیلتے کیوں نہیں؟ حالانکہ وہ نبی ﷺ کے دور میں کھیلا کرتے تھے۔ یوسف بن عدی فرماتے ہیں کہ «التَّقْلِيسُ» کا یہ معنی ہے کہ بچیاں اور بچے راستوں پر بیٹھ کر طبل سے کھیلا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: عید پڑھنے کے بعد دف بجانا سنت ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: عید پڑھنے کے بعد دف بجانا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 20979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْهَرَوِيُّ، بِسَافِرِيَّةَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: " مَا كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُعْمَلُ بَعْدَهُ، إِلَّا شَيْءٌ وَاحِدٌ، كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ ". وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ قَالَ: " كَانَ يُقَلَّسُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ " وَالتَّقْلِيسُ: اللَّعِبُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عید کے دن صرف کھیل ہوا کرتا تھا۔
(ب) محمد، اسرائیل سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے کھیلا کرتے تھے اور «التَّقْلِيسُ» کھیل ہی کو کہتے ہیں۔
(ب) محمد، اسرائیل سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے کھیلا کرتے تھے اور «التَّقْلِيسُ» کھیل ہی کو کہتے ہیں۔