کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذو معنی (گول مول) بات کرنے میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ - هُوَ ابْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ - هُوَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا فِي الْمَعَارِيضِ مَا يُغْنِي الرَّجُلَ عَنِ الْكَذِبِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی توریہ کے ذریعے جھوٹ سے بچ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ - هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ فِي الْمَعَارِيضِ لَمَنْدُوحَةً، عَنِ الْكَذِبِ ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ توریہ کے ذریعے جھوٹ سے بچا جا سکتا ہے۔
موقوف ہونے کی صورت میں یہی صحیح ہے۔
موقوف ہونے کی صورت میں یہی صحیح ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْمَعَارِيضِ لَمَنْدُوحَةً عَنِ الْكَذِبِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”توریہ کے ذریعے جھوٹ سے بچا جا سکتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْجَعْدِ الْوَشَّاءُ، ثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، تَفَرَّدَ بِرَفْعِهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
اسے مرفوع بیان کرنے میں داود بن زبرقان منفرد ہیں، اور یہ ایک دوسری ضعیف سند سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے۔
اسے مرفوع بیان کرنے میں داود بن زبرقان منفرد ہیں، اور یہ ایک دوسری ضعیف سند سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " الْمَعَارِيضُ أَنْ يُرِيدَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْكَلَامِ الَّذِي إِنْ صَرَّحَ بِهِ كَانَ كَذِبًا، فَيُعَارِضَهُ بِكَلَامٍ آخَرَ يُوَافِقُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فِي اللَّفْظِ، وَيُخَالِفُهُ فِي الْمَعْنَى، فَيَتَوَهَّمَ السَّامِعُ أَنَّهُ أَرَادَ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: " مَنْدُوحَةً "، يَعْنِي: سَعَةً وَفُسْحَةً " قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا إِنَّمَا يَجُوزُ فِيمَا يَرُدُّ بِهِ ضَرَرًا، وَلَا يَرْجِعُ بِالضَّرَرِ عَلَى غَيْرِهِ، وَأَمَّا فِيمَا يَضُرُّ غَيْرَهُ فَلَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توریہ یہ ہے کہ آدمی کوئی کلام کرنا چاہتا ہے، اگر وہ واضح بات کرتا ہے تو یہ جھوٹ ہے، چنانچہ وہ ایسے کلام سے توریہ کرتا ہے کہ وہ کلام لفظوں کے اعتبار سے ایک جیسا ہو لیکن اس کے معنی مختلف ہوں، جس سے سننے والے کو وہم ہوتا ہے کہ وہ وہی کلام کر رہا ہے، «مَنْدُوحَةٌ» یعنی وسعت اور گنجائش۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تکلیف دور کرنا مقصود ہو تو جائز ہے، جبکہ دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کرنا جائز نہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تکلیف دور کرنا مقصود ہو تو جائز ہے، جبکہ دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کرنا جائز نہیں۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا، هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ، وَأَنْتَ لَهُ بِهِ كَاذِبٌ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”یہ سب سے بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی ایسی بات کرے جس میں وہ تیری تصدیق کرنے والا ہو، حالانکہ تو اس میں جھوٹا ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، هُوَ ابْنُ نَجْدَةَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ، ضُبَارَةُ بْنُ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، وہ اسی طرح ذکر کرتے ہیں۔