السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : المعاريض فيها مندوحة عن الكذب باب: ذو معنی (گول مول) بات کرنے میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے۔
حدیث نمبر: 20845
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " الْمَعَارِيضُ أَنْ يُرِيدَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْكَلَامِ الَّذِي إِنْ صَرَّحَ بِهِ كَانَ كَذِبًا، فَيُعَارِضَهُ بِكَلَامٍ آخَرَ يُوَافِقُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فِي اللَّفْظِ، وَيُخَالِفُهُ فِي الْمَعْنَى، فَيَتَوَهَّمَ السَّامِعُ أَنَّهُ أَرَادَ ذَلِكَ، وَقَوْلُهُ: " مَنْدُوحَةً "، يَعْنِي: سَعَةً وَفُسْحَةً " قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا إِنَّمَا يَجُوزُ فِيمَا يَرُدُّ بِهِ ضَرَرًا، وَلَا يَرْجِعُ بِالضَّرَرِ عَلَى غَيْرِهِ، وَأَمَّا فِيمَا يَضُرُّ غَيْرَهُ فَلَا.حافظ ثناء اللہ
ابو عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توریہ یہ ہے کہ آدمی کوئی کلام کرنا چاہتا ہے، اگر وہ واضح بات کرتا ہے تو یہ جھوٹ ہے، چنانچہ وہ ایسے کلام سے توریہ کرتا ہے کہ وہ کلام لفظوں کے اعتبار سے ایک جیسا ہو لیکن اس کے معنی مختلف ہوں، جس سے سننے والے کو وہم ہوتا ہے کہ وہ وہی کلام کر رہا ہے، «مَنْدُوحَةٌ» یعنی وہ کھول کر بیان کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تکلیف دور کرنا مقصود ہو تو جائز ہے، جبکہ دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کرنا جائز نہیں۔