کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جسے جھوٹی گواہی دینے میں آزمایا جا چکا ہو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ " أَوْ قَالَ: " شَهَادَةُ الزُّورِ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑا کبیرہ گناہ شرک، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: " الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينٌ فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو ملیح ہُذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”مسلمان ایک دوسرے کے حق میں عادل (معتبر گواہ) ہیں، سوائے اس کے جس کو حد میں کوڑے لگے ہوں، یا جس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو، یا جو ولاء یا قرابت داری کے معاملے میں متہم ہو۔“