السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من جرب بشهادة زور لم تقبل شهادته باب: جسے جھوٹی گواہی دینے میں آزمایا جا چکا ہو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: " الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينٌ فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابو ملیح ہُذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”مسلمان ایک دوسرے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، سوائے اس کے جس کو حد کی وجہ سے سزا ملی ہو اور اس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو اور نیت اور قرابت داری کے اندر تہمت ہو۔“