کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان: ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جائے تو وصیت کے وقت تمہارے آپس کی گواہی یہ ہے کہ تم میں سے دو ثقہ (معتبر) آدمی گواہ ہوں یا تمہارے غیروں (غیر مسلموں) میں سے دو اور شخص ہوں“۔
بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: 106].
حافظ ثناء اللہ
باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے تو وصیت کے وقت تمہارے آپس کی گواہی (کا طریقہ یہ ہے کہ) تم میں سے دو عادل آدمی ہوں، یا تمہارے غیروں میں سے دو اور ہوں۔“ [سورة المائدة: 106]
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا أَرَادَ مِنْ هَذَا، وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ يَتَأَوَّلُ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى: مِنْ غَيْرِ قَبِيلِكُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَيَحْتَجُّ فِيهَا بِقَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا} [المائدة: ١٠٦] وَالصَّلَاةُ الْمُوَقَّتَةُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَبِقَولِ اللهِ: {وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى} [المائدة: ١٠٦] وَإِنَّمَا الْقَرَابَةُ ⦗٢٧٦⦘ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَرَبِ، أَوْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَهْلِ الْأَوْثَانِ، لَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ، وَيَقُولُ اللهُ: {وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لِمَنَ الْآثِمِينَ} [المائدة: ١٠٦] وَإِنَّمَا يَتَأَثَّمُ مِنْ كِتْمَانِ الشَّهَادَةِ لِلْمُسْلِمِينَ الْمُسْلِمُونَ، لَا أَهْلُ الذِّمَّةِ "..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں، اللہ ہی جانتا ہے اس معنی سے کیا مراد ہے، لیکن میں نے اس سے سنا جو اس آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے کہ (اس سے مراد) مسلمانوں میں سے تمہارے قبیلے کے علاوہ (لوگ) ہیں اور اللہ کے اس فرمان سے دلیل لی ہے: ﴿تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا﴾ [سورة المائدة: 106] ”تم نماز کے بعد ان کو روکو، وہ اللہ کی قسمیں اٹھائیں، اگر تمہیں شک ہو کہ ہم اس کو قیمت کے عوض فروخت نہیں کرتے“ اور نماز کا وقت مسلمانوں کے لیے مقرر ہے، اور اس فرمان سے: ﴿وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔“ اور قرابت تو صرف ان عرب مسلمانوں کے درمیان تھی جو نبی ﷺ کے ساتھ تھے، یا ان کے اور بتوں کے پجاریوں کے درمیان، نہ کہ ان کے اور ذمی لوگوں کے درمیان۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اور ہم اللہ کی گواہی کو نہ چھپائیں، تب تو ہم گناہ گار ہو جائیں گے۔“ مسلمانوں کی گواہی چھپانے کو صرف مسلمان ہی گناہ سمجھتے ہیں، نہ کہ ذمی لوگ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: {اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] قَالَ: " مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ: مِنَ الْقَبِيلَةِ أَوْ غَيْرِ الْقَبِيلَةِ "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنِ الْحَسَنِ: " أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَقُولُ: " تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ "، وَرُوِّينَا، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: " {أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] قَالَ: " مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ غَيْرِ حَيِّهِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ يَذْكُرُ أَنَّهَا مَنْسُوخَةٌ بِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: ٢] وَرَأَيْتُ مُفْتِيَّ أَهْلِ دَارِ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ يُفْتُونَ أَنْ لَا تَجُوزَ شَهَادَةُ غَيْرِ الْمُسْلِمِينَ الْعُدُولِ، وَذَلِكَ قَوْلِي. وَحَكَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، وَغَيْرِهِمَا أَنَّهُمْ أَبَوْا إِجَازَةَ شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا مَعَ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: {أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، دَلَّ عَلَى أَنَّهُ اعْتَقَدَ فِيهَا النَّسْخَ أَوْ حَمَلَ الْآيَةَ عَلَى غَيْرِ الشَّهَادَةِ، كَمَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى..
حافظ ثناء اللہ
یونس حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”دو عدل والے یا تمہارے علاوہ دوسرے دو گواہ ہوں۔“ مسلمانوں قبیلہ کے یا غیر قبیلہ کے۔
کسی اور نے حسن رحمہ اللہ سے زائد بھی بیان کیا ہے کہ ﴿تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیتے ہو۔“
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ سے مراد مسلمان ہی ہیں جو تمہارے قبیلہ کے علاوہ سے ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض سے میں نے سنا کہ یہ منسوخ ہے، اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2] ”دو عدل والے تم میں سے گواہی دیں۔“ میں نے دار الہجرت اور اہل سنت کے مفتیوں کو دیکھا ہے وہ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ عادل مسلمانوں کے علاوہ کسی کی گواہی جائز نہیں، اور یہی میرا قول ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے: ابن مسیب رحمہ اللہ، ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذمی آدمی کی گواہی کا انکار کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات، اس کے ساتھ جو ابن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ اللہ کے قول: ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] کے بارے میں فرماتے تھے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس آیت کو منسوخ سمجھتے تھے یا اس آیت کو گواہی کے علاوہ کسی دوسری چیز پر محمول کرتے تھے۔
کسی اور نے حسن رحمہ اللہ سے زائد بھی بیان کیا ہے کہ ﴿تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیتے ہو۔“
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ سے مراد مسلمان ہی ہیں جو تمہارے قبیلہ کے علاوہ سے ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض سے میں نے سنا کہ یہ منسوخ ہے، اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2] ”دو عدل والے تم میں سے گواہی دیں۔“ میں نے دار الہجرت اور اہل سنت کے مفتیوں کو دیکھا ہے وہ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ عادل مسلمانوں کے علاوہ کسی کی گواہی جائز نہیں، اور یہی میرا قول ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے: ابن مسیب رحمہ اللہ، ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذمی آدمی کی گواہی کا انکار کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات، اس کے ساتھ جو ابن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ اللہ کے قول: ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] کے بارے میں فرماتے تھے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس آیت کو منسوخ سمجھتے تھے یا اس آیت کو گواہی کے علاوہ کسی دوسری چیز پر محمول کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: " هِيَ مَنْسُوخَةٌ " وَمِنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ مَنْ حَمَلَ الشَّهَادَةَ الْمَذْكُورَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَلَى الْيَمِينِ، كَمَا سُمِّيَتْ أَيْمَانُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ شَهَادَةً.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ منسوخ ہے اور مفسرین نے اس کو قسم کی گواہی پر محمول کیا ہے، جیسے دو لعان کرنے والوں کی قسموں کو شہادت کہہ دیا جاتا ہے۔
وَمَعْنَى الْآيَةِ حِينَئِذٍ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فِي قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ⦗٢٧٧⦘ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: ١٠٦] يَقُولُ: شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ، مِنْ أَهْلِ دِينِكُمْ، أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ،، يَقُولُ: يَهُودِيَّيْنِ أَوْ نَصْرَانِيَّيْنِ. قَوْلُهُ: {إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ} [المائدة: ١٠٦] وَذَلِكَ أَنَّ رَجُلَيْنِ نَصْرَانِيَّيْنِ مِنْ أَهْلِ دَارِينَ، أَحَدُهُمَا تَمِيمٌ، وَالْآخَرُ عَدِيٌّ، صَحِبَهُمَا مَوْلًى لِقُرَيْشٍ فِي تِجَارَةٍ، وَرَكِبُوا الْبَحْرَ، وَمَعَ الْقُرَشِيِّ مَالٌ مَعْلُومٌ قَدْ عَلِمَهُ أَوْلِيَاؤُهُ مِنْ بَيْنِ آنِيَةٍ وَبِزَوْرَقَةٍ، فَمَرِضَ الْقُرَشِيُّ، فَجَعَلَ الْوَصِيَّةَ إِلَى الدَّارِيَّيْنِ، فَمَاتَ، فَقَبَضَ الدَّارِيَّانِ الْمَالَ، فَلَمَّا رَجَعَا مِنْ تِجَارَتِهِمِا جَاءَا بِالْمَالِ وَالْوَصِيَّةِ، فَدَفَعَاهُ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ وَجَاءَا بِبَعْضِ مَالِهِ، فَاسْتَنْكَرَ الْقَوْمُ قِلَّةَ الْمَالِ، فَقَالُوا لِلدَّارِيَّيْنِ: إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ مَعَهُ بِمَالٍ كَثِيرٍ مِمَّا أَتَيْتُمَا بِهِ، فَهَلْ بَاعَ شَيْئًا أَوِ اشْتَرَى شَيْئًا، فَوَضَعَ فِيهِ، أَمْ هَلْ طَالَ مَرَضُهُ، فَأَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ؟ قَالَا: لَا، قَالُوا: إِنَّكُمَا قَدْ خُنْتُمَا لَنَا، فَقَبَضُوا الْمَالَ، وَرَفَعُوا أَمْرَهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ} [المائدة: ١٠٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَنْ يُحْبَسَا بَعْدَ الصَّلَاةِ أَمْرُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَحَلَفَا بِاللهِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ، وَرَبِّ الْأَرْضِ، مَا تَرَكَ مَوْلَاكُمْ مِنْ مَالٍ إِلَّا مَا أَتَيْنَاكُمْ بِهِ، وَإِنَّا لَا نَشْتَرِي بِأَيْمَانِنَا ثَمَنًا مِنَ الدُّنْيَا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى، وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ، فَلَمَّا حلَفَا خُلِّيَ سَبِيلُهُمَا، ثُمَّ إِنَّهُمْ وَجَدُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِنَاءً مِنْ آنِيَةِ الْمَيِّتِ، وَأَخَذُوا الدَّارِيَّيْنِ فَقَالَا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْهُ فِي حَيَاتِهِ، وَكَذِبَا، فَكُلِّفَا الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَقْدِرَا عَلَيْهَا، فَرَفَعُوا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَإِنْ عُثِرَ} [المائدة: ١٠٧]، يَقُولُ: فَإِنِ اطُّلِعَ {عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا} [المائدة: ١٠٧] يَعْنِي الدَّارِيَّيْنِ، يَقُولُ: إِنْ كَانَا كَتَمَا حَقًّا {فَآخَرَانِ} [المائدة: ١٠٧] مِنْ أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ {يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللهِ} [المائدة: ١٠٧]، يَقُولُ: فَيَحْلِفَانِ بِاللهِ إِنَّ مَالَ صَاحِبِنَا كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ الَّذِي نَطْلُبُ قِبَلَ الدَّارِيَّيْنِ لَحَقٌّ {وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ} [المائدة: ١٠٧] فَهَذَا قَوْلُ الشَّاهِدَيْنَ، أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ حِينَ اطُّلِعَ عَلَى خِيَانَةِ الدَّارِيَّيْنِ، يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: {ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا} [المائدة: ١٠٨] يَعْنِي االدَّارِيَّيْنِ وَالنَّاسَ أَنْ يَعُودُوا لِمِثْلِ ذَلِكَ "..
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اے ایمان والو! تم آپس میں گواہی دو۔ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے تو وصیت کے وقت تمہارے (دین) والوں میں سے دو عادل انسان موجود ہوں“ کے متعلق کہا کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”یا تمہارے علاوہ (یعنی غیر مسلموں میں سے) دو آدمی موجود ہوں“، یعنی دو یہودی یا دو عیسائی۔ ﴿إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر تم سفر میں ہو۔“ (اس کا پس منظر یہ ہے کہ) دارین کے رہنے والے دو نصرانی آدمی تھے، ایک کا نام تمیم اور دوسرے کا عدی تھا۔ قریش کا ایک آزاد کردہ غلام ایک تجارتی سفر میں ان کے ساتھ ہو گیا اور وہ سمندر میں سوار ہوئے۔ قریشی کے پاس معلوم مال تھا، اس کے ورثاء برتن اور سامان وغیرہ کو جانتے تھے کہ اتنا ہے۔ قریشی بیمار ہوا تو اس نے ان دونوں داریوں کو اپنا وصی بنا دیا اور فوت ہو گیا۔ ان دونوں نے اس کے مال پر قبضہ کر لیا۔ جب وہ تجارتی سفر سے واپس لوٹے تو انہوں نے اس کا مال اور وصیت میت کے ورثاء کے حوالے کر دی اور اس کا کچھ ہی مال واپس لائے۔ قوم نے مال کی کمی کو ناگوار جانا۔ انہوں نے دونوں داریوں سے کہا کہ ہمارا ساتھی اس سے کہیں زیادہ مال لے کر نکلا تھا جو تم لے آئے ہو۔ کیا اس نے کوئی چیز خریدی یا فروخت کی تھی جس میں اسے نقصان ہوا، یا اس کی بیماری لمبی ہو گئی تو اس نے اپنے اوپر خرچ کیا؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پھر تم نے ہم سے خیانت کی ہے۔ انہوں نے مال قبضے میں لیا اور معاملہ نبی ﷺ تک لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ [سورة المائدة: 106] آخر آیت تک نازل فرما دی۔ جب یہ حکم نازل ہوا کہ ان دونوں کو نماز کے بعد روکا جائے تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا، چنانچہ وہ نماز کے بعد کھڑے ہوئے اور آسمانوں اور زمین کے رب اللہ کی قسم اٹھائی کہ تمہارے غلام نے صرف یہی مال چھوڑا تھا جو ہم تمہارے پاس لائے ہیں، اور ہم اپنی قسموں کے بدلے دنیا کی کوئی قیمت نہیں لیتے، ﴿وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّـهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم اللہ کی گواہی کو نہیں چھپائیں گے، تب تو ہم گناہ گار ہو جائیں گے۔“
جب انہوں نے قسمیں اٹھا لیں تو ان کو چھوڑ دیا گیا۔ پھر اس کے بعد انہیں میت کے برتنوں میں سے ایک برتن مل گیا۔ انہوں نے پھر ان دونوں داریوں کو پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا: یہ تو ہم نے اس کی زندگی میں اس سے خریدا تھا، اور انہوں نے جھوٹ بولا۔ جب ان سے گواہی طلب کی گئی تو وہ اس سے قاصر رہے۔ پھر یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس لے جایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ﴿فَإِنْ عُثِرَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اگر اطلاع ہو جائے۔“ ﴿عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا﴾ [سورة المائدة: 107] یعنی دونوں داری گناہ گار ہیں، اگر انہوں نے کوئی حق چھپایا ہو۔ ﴿فَآخَرَانِ﴾ میت کے ورثاء میں سے۔ ﴿يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ﴾ [سورة المائدة: 107] ”وہ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہمارے ساتھی کا فلاں فلاں مال تھا اور ہم جو دونوں داریوں سے مطالبہ کر رہے ہیں وہ حق ہے۔“ ﴿وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی، ورنہ تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔“ یہ میت کے ورثاء میں سے دونوں گواہوں کی بات ہے، جب انہیں دونوں داریوں کی خیانت کی اطلاع ملی۔ ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا﴾ [سورة المائدة: 108] ”یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی ٹھیک ٹھیک ادا کریں“ یعنی دونوں داری اور دوسرے لوگ، تاکہ وہ دوبارہ ایسا نہ کریں۔
جب انہوں نے قسمیں اٹھا لیں تو ان کو چھوڑ دیا گیا۔ پھر اس کے بعد انہیں میت کے برتنوں میں سے ایک برتن مل گیا۔ انہوں نے پھر ان دونوں داریوں کو پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا: یہ تو ہم نے اس کی زندگی میں اس سے خریدا تھا، اور انہوں نے جھوٹ بولا۔ جب ان سے گواہی طلب کی گئی تو وہ اس سے قاصر رہے۔ پھر یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس لے جایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ﴿فَإِنْ عُثِرَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اگر اطلاع ہو جائے۔“ ﴿عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا﴾ [سورة المائدة: 107] یعنی دونوں داری گناہ گار ہیں، اگر انہوں نے کوئی حق چھپایا ہو۔ ﴿فَآخَرَانِ﴾ میت کے ورثاء میں سے۔ ﴿يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ﴾ [سورة المائدة: 107] ”وہ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہمارے ساتھی کا فلاں فلاں مال تھا اور ہم جو دونوں داریوں سے مطالبہ کر رہے ہیں وہ حق ہے۔“ ﴿وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی، ورنہ تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔“ یہ میت کے ورثاء میں سے دونوں گواہوں کی بات ہے، جب انہیں دونوں داریوں کی خیانت کی اطلاع ملی۔ ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا﴾ [سورة المائدة: 108] ”یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی ٹھیک ٹھیک ادا کریں“ یعنی دونوں داری اور دوسرے لوگ، تاکہ وہ دوبارہ ایسا نہ کریں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ مُعَاذُ بْنُ مُوسَى الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ بُكَيْرٌ: قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ، وَالضَّحَّاكِ فِي قَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] الْآيَةَ: إِنَّ رَجُلَيْنِ نَصْرَانِيَّيْنِ مِنْ أَهْلِ دَارِينَ، أَحَدُهُمَا تَمِيمِيٌّ، وَالْآخَرُ يَمَانِيٌّ، صَحِبَهُمَا مَوْلًى لِقُرَيْشٍ فِي تِجَارَةٍ، فَرَكِبُوا الْبَحْرَ، وَمَعَ الْقُرَشِيِّ مَالٌ مَعْلُومٌ، فَذَكَرَ مَعْنَى مَا رُوِّينَا.⦗٢٧٨⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا مَعْنَى {شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] إِيمَانٌ بَيْنَكُمْ، إِذَا كَانَ هَذَا الْمَعْنَى، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ ثَبَتَ مَعْنَى مَا ذَكَرَهُ مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُحْفَظْ فِيهِ دَعْوَى تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ أَنَّهُمَا اشْتَرَيَاهُ، وَحَفِظَهُ مُقَاتِلٌ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، حسن اور ضحاک رحمہم اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”دو عدل والے گواہ تم میں سے اور دو تمہارے علاوہ میں سے“ کے بارے میں فرماتے ہیں: دارین کے رہنے والے دو نصرانی آدمی تھے ایک تمیمی اور دوسرا یمانی، یہ ایک قریشی کے تجارتی سفر میں ساتھی بن گئے، قریشی کا مال معلوم تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] کا معنیٰ آپس میں قسمیں اٹھانا ہے۔
مقاتل بن حیان نے جو بات اہل تفسیر سے ذکر کی ہے اس کا مفہوم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے، البتہ اس میں تمیم اور عدی کا یہ دعویٰ محفوظ نہیں کہ انہوں نے وہ (پیالہ) خریدا تھا، اور مقاتل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] کا معنیٰ آپس میں قسمیں اٹھانا ہے۔
مقاتل بن حیان نے جو بات اہل تفسیر سے ذکر کی ہے اس کا مفہوم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے، البتہ اس میں تمیم اور عدی کا یہ دعویٰ محفوظ نہیں کہ انہوں نے وہ (پیالہ) خریدا تھا، اور مقاتل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بِذَا، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ، فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَجَدُوا الْجَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا: لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ، وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ - هُوَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا، اس سہمی کی موت ایسی جگہ ہوئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو (ورثاء نے) ایک چاندی کا پیالہ جس پر سونے کا کام تھا گم پایا۔ نبی ﷺ نے ان دونوں سے قسمیں لیں۔ پھر وہ پیالہ مکہ سے مل گیا، انہوں نے کہا: ہم نے تمیم و عدی سے خریدا ہے، تو سہمی کے دو ورثاء کھڑے ہوئے، انہوں نے قسم اٹھائی کہ ان کی شہادت سے ہماری شہادت کا زیادہ حق ہے کہ ہمارے ساتھی کا پیالہ ان کے پاس ہے، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106]۔