کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان: ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جائے تو وصیت کے وقت تمہارے آپس کی گواہی یہ ہے کہ تم میں سے دو ثقہ (معتبر) آدمی گواہ ہوں یا تمہارے غیروں (غیر مسلموں) میں سے دو اور شخص ہوں“۔
حدیث نمبر: 20620
بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: 106].
حافظ ثناء اللہ
باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے تو وصیت کے وقت تمہارے آپس کی گواہی (کا طریقہ یہ ہے کہ) تم میں سے دو عادل آدمی ہوں، یا تمہارے غیروں میں سے دو اور ہوں۔“ [سورة المائدة: 106]
حدیث نمبر: 20620
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا أَرَادَ مِنْ هَذَا، وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ يَتَأَوَّلُ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى: مِنْ غَيْرِ قَبِيلِكُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَيَحْتَجُّ فِيهَا بِقَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا} [المائدة: ١٠٦] وَالصَّلَاةُ الْمُوَقَّتَةُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَبِقَولِ اللهِ: {وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى} [المائدة: ١٠٦] وَإِنَّمَا الْقَرَابَةُ ⦗٢٧٦⦘ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَرَبِ، أَوْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَهْلِ الْأَوْثَانِ، لَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ، وَيَقُولُ اللهُ: {وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لِمَنَ الْآثِمِينَ} [المائدة: ١٠٦] وَإِنَّمَا يَتَأَثَّمُ مِنْ كِتْمَانِ الشَّهَادَةِ لِلْمُسْلِمِينَ الْمُسْلِمُونَ، لَا أَهْلُ الذِّمَّةِ "..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں، اللہ ہی جانتا ہے اس معنی سے کیا مراد ہے، لیکن میں نے اس سے سنا جو اس آیت کی تفسیر بیان کرتا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ ہوں اور اللہ کے اس فرمان سے دلیل لی ہے: ﴿تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا﴾ [سورة المائدة: 106] ”تم نماز کے بعد ان کو روکو، وہ اللہ کی قسمیں اٹھائیں، اگر تمہیں شک ہو کہ ہم اس کو قیمت کے عوض فروخت نہیں کرتے اور نماز کا وقت مسلمانوں کے لیے مقرر ہے“، ﴿وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔“ عرب کے مسلمان جو نبی ﷺ کے ساتھ تھے یا ان لوگوں اور بتوں کے پجاریوں کے درمیان لیکن ذمی لوگوں سے قرابت نہ تھی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اور ہم اللہ کی گواہی کو نہ چھپائیں، تب تو ہم گناہ گار ہو جائیں گے۔“ یہ صرف مسلمان کا مسلمان کی شہادت کو چھپانے کی وجہ سے ہے، نہ کہ ذمی لوگوں کی گواہی کو چھپانے کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 20621
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: {اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] قَالَ: " مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ: مِنَ الْقَبِيلَةِ أَوْ غَيْرِ الْقَبِيلَةِ "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنِ الْحَسَنِ: " أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَقُولُ: " تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ "، وَرُوِّينَا، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: " {أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] قَالَ: " مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ غَيْرِ حَيِّهِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ يَذْكُرُ أَنَّهَا مَنْسُوخَةٌ بِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: ٢] وَرَأَيْتُ مُفْتِيَّ أَهْلِ دَارِ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ يُفْتُونَ أَنْ لَا تَجُوزَ شَهَادَةُ غَيْرِ الْمُسْلِمِينَ الْعُدُولِ، وَذَلِكَ قَوْلِي. وَحَكَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، وَغَيْرِهِمَا أَنَّهُمْ أَبَوْا إِجَازَةَ شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا مَعَ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: {أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، دَلَّ عَلَى أَنَّهُ اعْتَقَدَ فِيهَا النَّسْخَ أَوْ حَمَلَ الْآيَةَ عَلَى غَيْرِ الشَّهَادَةِ، كَمَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى..
حافظ ثناء اللہ
یونس حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”دو عدل والے یا تمہارے علاوہ دوسرے دو گواہ ہوں۔“ مسلمانوں قبیلہ کے یا غیر قبیلہ کے۔
کسی اور نے حسن رحمہ اللہ سے زائد بھی بیان کیا ہے کہ ﴿تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیتے ہو۔“
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ سے مراد مسلمان ہی ہیں جو تمہارے قبیلہ کے علاوہ سے ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض سے میں نے سنا کہ یہ منسوخ ہے، اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2] ”دو عدل والے تم میں سے گواہی دیں۔“ میں نے مفتیوں کو دیکھا ہے وہ صرف عادل مسلمان کی گواہی کا اعتبار کرتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے: ابن مسیب رحمہ اللہ، ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذمی آدمی کی گواہی کا انکار کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن مسیب رحمہ اللہ سے اللہ کے قول: ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] سے مراد اہل کتاب ہیں یا یہ آیت منسوخ ہے یا اس آیت کو گواہی کے علاوہ کسی دوسری چیز پر محمول کیا جائے۔
کسی اور نے حسن رحمہ اللہ سے زائد بھی بیان کیا ہے کہ ﴿تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیتے ہو۔“
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ سے مراد مسلمان ہی ہیں جو تمہارے قبیلہ کے علاوہ سے ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض سے میں نے سنا کہ یہ منسوخ ہے، اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2] ”دو عدل والے تم میں سے گواہی دیں۔“ میں نے مفتیوں کو دیکھا ہے وہ صرف عادل مسلمان کی گواہی کا اعتبار کرتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے: ابن مسیب رحمہ اللہ، ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذمی آدمی کی گواہی کا انکار کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن مسیب رحمہ اللہ سے اللہ کے قول: ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] سے مراد اہل کتاب ہیں یا یہ آیت منسوخ ہے یا اس آیت کو گواہی کے علاوہ کسی دوسری چیز پر محمول کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20622
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: " هِيَ مَنْسُوخَةٌ " وَمِنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ مَنْ حَمَلَ الشَّهَادَةَ الْمَذْكُورَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَلَى الْيَمِينِ، كَمَا سُمِّيَتْ أَيْمَانُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ شَهَادَةً.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ منسوخ ہے اور مفسرین نے اس کو قسم کی گواہی پر محمول کیا ہے، جیسے دو لعان کرنے والوں کی قسموں کو شہادت کہہ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20623
وَمَعْنَى الْآيَةِ حِينَئِذٍ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فِي قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ⦗٢٧٧⦘ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: ١٠٦] يَقُولُ: شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ، مِنْ أَهْلِ دِينِكُمْ، أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ،، يَقُولُ: يَهُودِيَّيْنِ أَوْ نَصْرَانِيَّيْنِ. قَوْلُهُ: {إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ} [المائدة: ١٠٦] وَذَلِكَ أَنَّ رَجُلَيْنِ نَصْرَانِيَّيْنِ مِنْ أَهْلِ دَارِينَ، أَحَدُهُمَا تَمِيمٌ، وَالْآخَرُ عَدِيٌّ، صَحِبَهُمَا مَوْلًى لِقُرَيْشٍ فِي تِجَارَةٍ، وَرَكِبُوا الْبَحْرَ، وَمَعَ الْقُرَشِيِّ مَالٌ مَعْلُومٌ قَدْ عَلِمَهُ أَوْلِيَاؤُهُ مِنْ بَيْنِ آنِيَةٍ وَبِزَوْرَقَةٍ، فَمَرِضَ الْقُرَشِيُّ، فَجَعَلَ الْوَصِيَّةَ إِلَى الدَّارِيَّيْنِ، فَمَاتَ، فَقَبَضَ الدَّارِيَّانِ الْمَالَ، فَلَمَّا رَجَعَا مِنْ تِجَارَتِهِمِا جَاءَا بِالْمَالِ وَالْوَصِيَّةِ، فَدَفَعَاهُ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ وَجَاءَا بِبَعْضِ مَالِهِ، فَاسْتَنْكَرَ الْقَوْمُ قِلَّةَ الْمَالِ، فَقَالُوا لِلدَّارِيَّيْنِ: إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ مَعَهُ بِمَالٍ كَثِيرٍ مِمَّا أَتَيْتُمَا بِهِ، فَهَلْ بَاعَ شَيْئًا أَوِ اشْتَرَى شَيْئًا، فَوَضَعَ فِيهِ، أَمْ هَلْ طَالَ مَرَضُهُ، فَأَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ؟ قَالَا: لَا، قَالُوا: إِنَّكُمَا قَدْ خُنْتُمَا لَنَا، فَقَبَضُوا الْمَالَ، وَرَفَعُوا أَمْرَهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ} [المائدة: ١٠٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَنْ يُحْبَسَا بَعْدَ الصَّلَاةِ أَمْرُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَحَلَفَا بِاللهِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ، وَرَبِّ الْأَرْضِ، مَا تَرَكَ مَوْلَاكُمْ مِنْ مَالٍ إِلَّا مَا أَتَيْنَاكُمْ بِهِ، وَإِنَّا لَا نَشْتَرِي بِأَيْمَانِنَا ثَمَنًا مِنَ الدُّنْيَا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى، وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ، فَلَمَّا حلَفَا خُلِّيَ سَبِيلُهُمَا، ثُمَّ إِنَّهُمْ وَجَدُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِنَاءً مِنْ آنِيَةِ الْمَيِّتِ، وَأَخَذُوا الدَّارِيَّيْنِ فَقَالَا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْهُ فِي حَيَاتِهِ، وَكَذِبَا، فَكُلِّفَا الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَقْدِرَا عَلَيْهَا، فَرَفَعُوا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَإِنْ عُثِرَ} [المائدة: ١٠٧]، يَقُولُ: فَإِنِ اطُّلِعَ {عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا} [المائدة: ١٠٧] يَعْنِي الدَّارِيَّيْنِ، يَقُولُ: إِنْ كَانَا كَتَمَا حَقًّا {فَآخَرَانِ} [المائدة: ١٠٧] مِنْ أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ {يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللهِ} [المائدة: ١٠٧]، يَقُولُ: فَيَحْلِفَانِ بِاللهِ إِنَّ مَالَ صَاحِبِنَا كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ الَّذِي نَطْلُبُ قِبَلَ الدَّارِيَّيْنِ لَحَقٌّ {وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ} [المائدة: ١٠٧] فَهَذَا قَوْلُ الشَّاهِدَيْنَ، أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ حِينَ اطُّلِعَ عَلَى خِيَانَةِ الدَّارِيَّيْنِ، يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: {ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا} [المائدة: ١٠٨] يَعْنِي االدَّارِيَّيْنِ وَالنَّاسَ أَنْ يَعُودُوا لِمِثْلِ ذَلِكَ "..
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اے ایمان والو! تم آپس میں گواہی دو۔ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے تو وصیت کے وقت تمہارے (دین) والوں میں سے دو عادل انسان موجود ہوں“ کے متعلق کہا کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”یا تمہارے علاوہ (یعنی غیر مسلموں میں سے) دو آدمی موجود ہوں“، یعنی دو یہودی یا عیسائی۔ ﴿إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر تم سفر میں ہو۔“ (اس کا پس منظر یہ ہے کہ) دو نصرانی آدمی تھے، ایک تمیم قبیلے کا اور دوسرا عدی قبیلے کا، دونوں ایک تجارتی سفر میں ساتھی بن گئے۔ ان کے ساتھ تیسرا ایک قریشی غلام تھا۔ سفر شروع ہوا اور قریشی کا مال معلوم تھا، اس کے ورثاء برتن اور چاندی وغیرہ کو جانتے تھے کہ اتنی ہے، تو قریشی نے بیمار ہوتے ہی اپنے گھر والوں کے نام وصیت لکھی۔ جب قریشی فوت ہو گیا تو ان دونوں نے اس کے مال پر قبضہ کر لیا۔ جب وہ تجارتی سفر سے واپس لوٹے تو انہوں نے اس کا مال اور میت ورثاء کے حوالے کر دی اور کچھ مال بھی واپس کر دیا۔ قوم نے مال کی کمی کا دعویٰ کر دیا۔ انہوں نے یہودی اور عیسائی سے یہ بات کہہ دی کہ اس کے پاس مال زیادہ تھا جو تم لے آئے ہو۔ کیا اس نے کوئی چیز خریدی یا فروخت کی تھی یا اس نے اپنی بیماری پر خرچ کیا تھا؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پھر تم نے خیانت کی ہے۔ انہوں نے مال قبضے میں لیا اور معاملہ نبی ﷺ تک لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ [سورة المائدة: 106] نازل فرما دی تو ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیا گیا کہ وہ دونوں اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ ان کے غلام نے صرف یہی مال چھوڑا تھا۔ ہم اپنی قسموں سے دنیا کے مال کی چاہت نہیں رکھتے۔ ﴿وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّـهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم اللہ کی گواہی کو نہیں چھپائیں گے، تب تو ہم گناہ گار ہو جائیں گے۔“
جب انہوں نے قسمیں اٹھا لیں تو ان کو چھوڑ دیا۔ پھر میت کا ایک برتن ان کے سامان سے مل گیا۔ انہوں نے پھر ان دونوں کو پکڑ لیا۔ انہوں نے کہہ دیا: یہ تو ہم نے اس سے خریدا تھا۔ جب گواہی طلب کی گئی تو وہ اس سے قاصر تھے۔ پھر یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ﴿فَإِنْ عُثِرَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اطلاع ہو جائے۔“ ﴿عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا﴾ [سورة المائدة: 107] یعنی وہ دونوں گناہ گار ہیں، اگر وہ دونوں حق کو چھپا لیتے ہیں۔ ﴿فَآخَرَانِ﴾ میت کے ورثاء۔ ﴿يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ﴾ [سورة المائدة: 107] ”وہ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہمارے ساتھی کا فلاں فلاں مال تھا اور ہم نے جو یہودی اور عیسائی سے مطالبہ کیا تھا وہ سچا تھا۔“ ﴿لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِن شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ حق دار ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی، ورنہ تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔“ یہ میت کے ورثاء کی بات ہے، جب وہ یہودی و عیسائی کی خیانت پر اطلاع پاتے ہیں۔ ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا﴾ [سورة المائدة: 108] ”کہ یہودی اور عیسائی اور لوگ ویسے ہی جمع ہوں۔“
جب انہوں نے قسمیں اٹھا لیں تو ان کو چھوڑ دیا۔ پھر میت کا ایک برتن ان کے سامان سے مل گیا۔ انہوں نے پھر ان دونوں کو پکڑ لیا۔ انہوں نے کہہ دیا: یہ تو ہم نے اس سے خریدا تھا۔ جب گواہی طلب کی گئی تو وہ اس سے قاصر تھے۔ پھر یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ﴿فَإِنْ عُثِرَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اطلاع ہو جائے۔“ ﴿عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا﴾ [سورة المائدة: 107] یعنی وہ دونوں گناہ گار ہیں، اگر وہ دونوں حق کو چھپا لیتے ہیں۔ ﴿فَآخَرَانِ﴾ میت کے ورثاء۔ ﴿يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ﴾ [سورة المائدة: 107] ”وہ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہمارے ساتھی کا فلاں فلاں مال تھا اور ہم نے جو یہودی اور عیسائی سے مطالبہ کیا تھا وہ سچا تھا۔“ ﴿لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِن شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ حق دار ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی، ورنہ تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔“ یہ میت کے ورثاء کی بات ہے، جب وہ یہودی و عیسائی کی خیانت پر اطلاع پاتے ہیں۔ ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا﴾ [سورة المائدة: 108] ”کہ یہودی اور عیسائی اور لوگ ویسے ہی جمع ہوں۔“
حدیث نمبر: 20624
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ مُعَاذُ بْنُ مُوسَى الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ بُكَيْرٌ: قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ، وَالضَّحَّاكِ فِي قَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] الْآيَةَ: إِنَّ رَجُلَيْنِ نَصْرَانِيَّيْنِ مِنْ أَهْلِ دَارِينَ، أَحَدُهُمَا تَمِيمِيٌّ، وَالْآخَرُ يَمَانِيٌّ، صَحِبَهُمَا مَوْلًى لِقُرَيْشٍ فِي تِجَارَةٍ، فَرَكِبُوا الْبَحْرَ، وَمَعَ الْقُرَشِيِّ مَالٌ مَعْلُومٌ، فَذَكَرَ مَعْنَى مَا رُوِّينَا.⦗٢٧٨⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا مَعْنَى {شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] إِيمَانٌ بَيْنَكُمْ، إِذَا كَانَ هَذَا الْمَعْنَى، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ ثَبَتَ مَعْنَى مَا ذَكَرَهُ مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُحْفَظْ فِيهِ دَعْوَى تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ أَنَّهُمَا اشْتَرَيَاهُ، وَحَفِظَهُ مُقَاتِلٌ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، حسن اور ضحاک رحمہم اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”دو عدل والے گواہ تم میں سے اور دو تمہارے علاوہ میں سے“ کے بارے میں فرماتے ہیں: دو آدمی تھے ایک تمیمی اور دوسرا یمانی، یہ ایک قریشی کے تجارتی سفر میں ساتھی بن گئے، قریشی کا مال معلوم تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] کا معنیٰ آپس میں قسمیں اٹھانا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] کا معنیٰ آپس میں قسمیں اٹھانا ہے۔
حدیث نمبر: 20625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بِذَا، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ، فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَجَدُوا الْجَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا: لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ، وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ - هُوَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا، اس سہمی کی موت ایسی جگہ ہوئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو ایک چاندی کا پیالہ جس پر سونے کی ملاوٹ تھی الگ کر لیا۔ نبی ﷺ نے ان دونوں سے قسمیں لیں۔ پھر وہ پیالہ مکہ سے مل گیا، انہوں نے کہا: ہم نے تمیم و عدی سے خریدا ہے، تو سہمی کے دو ورثاء کھڑے ہوئے، انہوں نے قسم اٹھائی کہ ان کی شہادت سے ہماری شہادت کا زیادہ حق ہے کہ ہمارے ساتھی کا پیالہ ان کے پاس ہے، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106]۔