کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جس نے غلاموں کی گواہی رد کی اور جس نے اسے قبول کیا۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: 282] قَالَ: وَرِجَالُنَا أَحْرَارُنَا، لَا مَمَالِيكُنَا الَّذِينَ يَغْلِبُهُمْ مَنْ يَمْلِكُهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِنْ أُمُورِهِمْ، فَلَا يَجُوزُ شَهَادَةُ مَمْلُوكٍ فِي شَيْءٍ وَإِنْ قَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ”اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو۔“ [سورة البقرة: 282]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور ہمارے مردوں سے مراد ہمارے آزاد لوگ ہیں، نہ کہ ہمارے وہ غلام جن کے بہت سے معاملات پر ان کے مالک غالب ہوتے ہیں، لہٰذا کسی غلام کی گواہی کسی بھی معاملے میں جائز نہیں، خواہ وہ معاملہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20607
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ ⦗٢٧٢⦘ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ: مِنَ الْأَحْرَارِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ارشادِ باری تعالیٰ ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] میں «رِجَال» سے مراد آزاد لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20607
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الْأَمَةِ، قَالَ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ "، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللهُ سُبْحَانَهُ يَقُولُ: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ} [المجادلة: ٣] أَفَلَيْسَتْ مِنَ النِّسَاءِ؟، فَقَالَ: " وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ؟ ". فَبَيَّنَ مُجَاهِدٌ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ مُطْلَقَ الْخِطَابِ يَتَنَاوَلُ الْأَحْرَارَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَالَ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ: رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ ". وَقَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي التَّرْجَمَةِ: قَالَ أَنَسٌ: " شَهَادَةُ الْعَبْدِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ عَدْلًا "، وَأَجَازَهَا شُرَيْحٌ، وَزُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " شَهَادَتُهُ جَائِزَةٌ، إِلَّا الْعَبْدَ لِسَيِّدِهِ "، وَأَجَازَهَا الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ، وَقَالَ شُرَيْحٌ: " كُلُّكُمْ بَنُو عَبِيدٍ وَإِمَاءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ میں نے لونڈی سے ظہار کے بارے میں مجاہد سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: ”کچھ بھی نہیں۔“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ [سورة المجادلة: 3] ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں۔“ کیا وہ عورتیں نہیں؟ فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] ”تو کیا غلام کی شہادت جائز ہے؟“ تو مجاہد نے بیان کیا کہ مطلق طور پر خطاب آزاد لوگوں کو ہے۔
(ب) ابویحییٰ ساجی فرماتے ہیں کہ علی، حسن، نخعی، زہری، مجاہد اور عطاء فرماتے ہیں کہ غلام کی شہادت قبول نہیں۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر عادل غلام ہو تو گواہی جائز ہے۔“
قاضی شریح اور زرارہ بن اوفی نے بھی جائز قرار دیا ہے۔
(د) ابن سیرین بھی جائز خیال کرتے ہیں، لیکن مالک کے حق میں نہیں۔ حسن اور ابراہیم نے معمولی چیز میں اسے جائز قرار دیا ہے، اور قاضی شریح نے فرمایا: ”تم سب غلاموں اور لونڈیوں کی اولاد ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20608