السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من رد شهادة العبيد ومن قبلها باب: جس نے غلاموں کی گواہی رد کی اور جس نے اسے قبول کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الْأَمَةِ، قَالَ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ "، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللهُ سُبْحَانَهُ يَقُولُ: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ} [المجادلة: ٣] أَفَلَيْسَتْ مِنَ النِّسَاءِ؟، فَقَالَ: " وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ؟ ". فَبَيَّنَ مُجَاهِدٌ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ مُطْلَقَ الْخِطَابِ يَتَنَاوَلُ الْأَحْرَارَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَالَ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ: رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ ". وَقَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي التَّرْجَمَةِ: قَالَ أَنَسٌ: " شَهَادَةُ الْعَبْدِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ عَدْلًا "، وَأَجَازَهَا شُرَيْحٌ، وَزُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " شَهَادَتُهُ جَائِزَةٌ، إِلَّا الْعَبْدَ لِسَيِّدِهِ "، وَأَجَازَهَا الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ، وَقَالَ شُرَيْحٌ: " كُلُّكُمْ بَنُو عَبِيدٍ وَإِمَاءٍ ".داؤد بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ میں نے لونڈی سے ظہار کے بارے میں مجاہد سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: ”کچھ بھی نہیں۔“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ [سورة المجادلة: 3] ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں۔“ کیا وہ عورتیں نہیں؟ فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] ”تو کیا غلام کی شہادت جائز ہے؟“ تو مجاہد نے بیان کیا کہ مطلق طور پر خطاب آزاد لوگوں کو ہے۔
(ب) ابویحییٰ ساجی فرماتے ہیں کہ علی، حسن، نخعی، زہری، مجاہد اور عطاء فرماتے ہیں کہ غلام کی شہادت قبول نہیں۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر عادل غلام ہو تو گواہی جائز ہے۔“
قاضی شریح اور زرارہ بن اوفی نے بھی جائز قرار دیا ہے۔
(د) ابن سیرین بھی جائز خیال کرتے ہیں، لیکن مالک کے حق میں نہیں۔ حسن اور ابراہیم نے معمولی چیز میں اسے جائز قرار دیا ہے، اور قاضی شریح نے فرمایا: ”تم سب غلاموں اور لونڈیوں کی اولاد ہو۔“