کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس نے غائب شخص کے خلاف فیصلہ صادر کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 20489
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ ح وأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ أُمُّ مُعَاوِيَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٣٨⦘ فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَبَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ ". لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ امِ معاویہ ہند رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ابوسفیان بخیل آدمی ہے، وہ ہمیں مکمل خرچہ نہیں دیتا، لیکن اس کے بتائے بغیر ہم کچھ لے لیتے ہیں، کیا کوئی گناہ تو نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھائی سے اتنا لو جتنا تمہیں کفایت کر جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20489
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 20490
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ يَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغَالِي بِهَا، ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ، فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَأَفْلَسَ، فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ أَنْ يُقَالَ: سَبَقَ الْحَاجَّ، أَلَا إِنَّهُ قَدِ ادَّانَ مُعْرِضًا، فَأَصْبَحَ قَدْ رِينَ بِهِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ، نَقْسِمُ مَالَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبدالرحمن بن دلاف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کا ایک آدمی کجاوہ خریدتا پھر زیادہ قیمت میں فروخت کرتا۔ پھر تیز چلتا اور حاجیوں سے سبقت لے جاتا۔ وہ غریب ہو گیا۔ اس کا معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! عمر اس کے دین و امانت سے راضی ہے، لیکن اس کا مال ختم ہو گیا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حاجیوں کے بارے میں سبقت کرتا تھا۔ لیکن اس کو قرض پیش آ گیا، جس کی وجہ سے وہ مغلوب ہو گیا۔ جس کا اس کے ذمہ قرض ہو، وہ ہمارے پاس آئے۔ ہم اس کا مال قرض داروں کے درمیان تقسیم کر دیں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20490
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»