کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی جب کسی معاملے میں فیصلہ صادر کرے تو اپنے کیے گئے فیصلے پر خود کو گواہ بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20434
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ ⦗٢٢٣⦘ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي قَتَلَ امْرَأَتَهُ بِالْوَقِيعَةِ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةُ ذَكَرَتْكَ، فَوَقَعَتْ فِيكَ، فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِعْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے قصے کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرنے کی وجہ سے مار ڈالا، (اس نے عرض کیا:) جب گزشتہ رات تھی تو اس نے آپ کا تذکرہ کیا اور آپ کی گستاخی کی، میں صبر نہ کر سکا اور میں نے «مِغْوَل» ”چھوٹا خنجر“ پکڑا اور اسے اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”گواہ ہو جاؤ، اس کا خون رائیگاں ہے۔“