کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی کسی معاملے میں فیصلہ صادر کرے تو حق دار کے مطالبے پر اس کے حق میں فیصلے کی دستاویز لکھ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20432
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا زُهَيْرٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيَكْتُبَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لَا وَاللهِ، حَتَّى تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَقَالَ: " ذَاكَ لَهُمْ مَا شَاءَ اللهُ "، كُلُّ ذَاكَ يَقُولُونَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کے متعلق لکھ دیں، انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! نہیں، پہلے ہمارے قریشی بھائیوں کے لیے اس کی مثل۔“ آپ ﷺ نے ان کے لیے یہ بات کہی جب تک اللہ نے چاہا۔ تمام نے آپ سے یہی بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم ترجیح کو دیکھو گے تو صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے ملو۔“
حدیث نمبر: 20433
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ أَبَا عُمَرَ الْحَوْضِيَّ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَدِينَةَ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الْأَنْصَارَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ بِهَا كِتَابًا، فَقَالُوا: لَا، حَتَّى تُعْطِيَ إِخْوَانَنَا مِنْ قُرَيْشٍ مِثْلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ میں ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو بحرین کی زمین جاگیر دی ہے اور آپ ﷺ کا ارادہ تھا کہ ان کو لکھ کر دے دیں۔ انہوں نے کہا: نہیں، یہاں تک کہ قریشیوں کو بھی اس کے مثل دیا جائے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم ترجیح کو دیکھو گے، پھر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے ملو۔“