کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فیصلے کے اوقات کے علاوہ پردہ اختیار کرنے (تنہائی میں رہنے) کی اجازت، اور قضاء کے وقت بھی اگر اس پر ہجوم کا خدشہ ہو تو پردہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا، قَالَ: فَجِئْتُ الْمَشْرَبَةَ الَّتِي فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ: " اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ، فَقَالَ: كَلَّمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ ⦗١٧٥⦘ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ لَهُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، فَقَالَ: قَدْ أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ، مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا اللِّيفُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے قصے کے بارے میں جنہوں نے (نبی ﷺ کے خلاف) باہم ایکا کیا تھا، فرماتے ہیں کہ میں اس بالاخانے پر آیا، جہاں رسول اللہ ﷺ تھے۔ میں نے آپ ﷺ کے ایک سیاہ فام غلام سے کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو، غلام داخل ہوا، رسول اللہ ﷺ سے بات کی۔ پھر واپس میری طرف پلٹا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا، آپ ﷺ خاموش رہے، میں واپس آکر اس گروہ کے پاس بیٹھ گیا، جو منبر کے پاس تھے۔ پھر میری ضرورت غالب آئی تو دوبارہ غلام سے کہا: عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام داخل ہوا۔ آپ ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ خاموش رہے۔ کہتے ہیں: جب میں واپس مڑ کر جانے لگا تو غلام نے پیچھے سے آواز دی کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ درمیان میں کوئی بستر نہ تھا۔ چٹائی کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو پر تھے۔ آپ ﷺ چمڑے کے ایسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جو کھجور کی چھال سے بھرا ہوا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، فَقَالَ لِي مَالِكٌ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِينَ مَتَعَ النَّهَارُ، إِذَا رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رِمَالِ سَرِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ لِي: " هَهُنَا يَا مَالِ " - يَعْنِي: يَا مَالِكُ، إِنَّهُ قَدْ قَدِمَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أُمِّرْتَ لَهُمْ، فَاقْسِمْ بَيْنَهُمْ "، قَالَ: فَقُلْتُ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَمَّرْتَ بِهِ غَيْرِي " قَالَ: " فَاقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ "، قَالَ: " فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ؟ " قَالَ: " نَعَمْ "، فَأَذِنَ لَهُمْ، قَالَ: " فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا، قَالَ: " ثُمَّ لَبِثَ يَرْفَأُ قَلِيلًا، فَقَالَ لِعُمَرَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ؟ " قَالَ: " نَعَمْ، ائْذَنْ لَهُمَا "، فَلَمَّا دَخَلَا سَلَّمَا وَجَلَسَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: " اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا "، فَقَالَ الرَّهْطُ - عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ -: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا، وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے مالک بن اوس بن حدثان نصری رضی اللہ عنہ نے خبر دی، اور محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ نے مجھ سے ان کی اس حدیث کا کچھ ذکر کیا تھا۔ میں چلا اور مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ پر داخل ہوا۔ میں نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے درمیان تھا، جس وقت دن اچھی طرح چڑھ گیا تو اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا، اس نے کہا: ”امیر المومنین یاد کر رہے ہیں۔“ میں اس کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ وہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے، کوئی اوپر بستر بھی نہ تھا اور چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا۔ میں سلام کہہ کر بیٹھ گیا۔ فرمانے لگے: ”اے مالک! یہاں بیٹھو۔“
”تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ آئے ہیں، میں نے ان کے لیے (کچھ مال کا) حکم دیا ہے، اسے ان کے درمیان تقسیم کر دو۔“ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ فرمایا: ”اے انسان! پکڑ۔“ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دربان آیا اور حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم کے لیے اجازت طلب کر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ داخل ہوئے اور سلام کہا، تھوڑی دیر کے بعد دربان دوبارہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما اجازت طلب کرتے ہیں، فرمایا: ”ان کو اجازت دے دو۔“ دونوں داخل ہوئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں۔“ گروہ یعنی حضرت عثمان اور ان کے ساتھی کہنے لگے: اے امیر المومنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجیے اور ایک کو دوسرے سے آرام دیجیے۔
”تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ آئے ہیں، میں نے ان کے لیے (کچھ مال کا) حکم دیا ہے، اسے ان کے درمیان تقسیم کر دو۔“ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ فرمایا: ”اے انسان! پکڑ۔“ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دربان آیا اور حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم کے لیے اجازت طلب کر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ داخل ہوئے اور سلام کہا، تھوڑی دیر کے بعد دربان دوبارہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما اجازت طلب کرتے ہیں، فرمایا: ”ان کو اجازت دے دو۔“ دونوں داخل ہوئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں۔“ گروہ یعنی حضرت عثمان اور ان کے ساتھی کہنے لگے: اے امیر المومنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجیے اور ایک کو دوسرے سے آرام دیجیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: " كَانَ شُرَيْحٌ يَدْخُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَيْتًا يَخْلُو فِيهِ، لَا يَدْرِي النَّاسُ مَا يَصْنَعُ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ جمعہ کو گھر میں داخل ہوتے، وہ گھر میں اکیلے ہوتے، لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرتے تھے۔