کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ لوگوں کے سامنے کھلی جگہ پر فیصلے کرے، اس کے اور لوگوں کے درمیان کوئی پردہ (رکاوٹ) نہ ہو، اور وہ شہر کے وسط میں ہو۔
حدیث نمبر: 20256
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي، فَقَالَ لَهَا: " اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي "، فَقَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَانْتَهَتْ إِلَى بَابِهِ، فَلَمْ تَجِدْ بَوَّابِينَ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ لَهَا: " الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ ". ⦗١٧٤⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے: کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ نبی ﷺ اس کے پاس سے گزرے، وہ قبر کے پاس رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ کہنے لگی: اپنے آپ کو لازم پکڑو، میرے جیسی مصیبت آپ کو نہیں پہنچی۔ اس عورت سے کہا گیا: یہ رسول اللہ ﷺ تھے، وہ رو رہی تھی وہ آپ کے دروازے تک پہنچی۔ کوئی دربان نہ پا کر اندر داخل ہوئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں پہچان نہ سکی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بی بی! صبر صدمہ کی ابتدا میں ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 20257
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُغْلَقُ دُونَهُ الْأَبْوَابُ، وَلَا يَقُومُ دُونَهُ الْحَجَبَةُ، وَلَا يُغْدَى عَلَيْهِ بِالْجِفَانِ وَلَا يُرَاحُ عَلَيْهِ بِهَا، كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارِزًا، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ، كَانَ يَجْلِسُ بِالْأَرْضِ، وَيُوضَعُ طَعَامُهُ بِالْأَرْضِ، وَيَلْبَسُ الْغَلِيظَ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ، وَيُرْدِفُ خَلْفَهُ وَيَلْعَقُ وَاللهِ يَدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے دروازے بند نہیں کیے جاتے تھے، کوئی دربان نہیں بیٹھتا تھا، صبح اور شام کا کھانا سامنے نہیں لایا جاتا تھا، رسول اللہ ﷺ سامنے ہوتے، جس کا دل چاہتا ملاقات کر لیتا، آپ ﷺ زمین پر بیٹھتے، آپ ﷺ کا کھانا زمین پر رکھا جاتا، آپ ﷺ موٹا لباس پہنتے، گدھے کی سواری فرماتے، اپنے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے اور اللہ کی قسم! اپنا ہاتھ چاٹ لیتے۔
حدیث نمبر: 20258
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُبَارَكٍ، ثنا صَدَقَةُ، وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ يُكْنَى أَبَا مَرْيَمَ مِنَ الْأُسْدِ قَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا أَقْدَمَكَ؟ قَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ مَوقِفَكَ جِئْتُ أُخْبِرُكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ وَلَّاهُ اللهُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا، فَاحْتَجَبَ عَنْ حَاجَاتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَاقَتِهِمْ احْتَجَبَ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَاقَتِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن مغیرہ فلسطین کے ایک آدمی جن کی کنیت ابو مریم تھی اور اسد قبیلہ سے تعلق تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے پوچھا: کون سی چیز آپ کو لے کر آئی ہے؟ اس نے کہا: میں نے ایک حدیث نبی کریم ﷺ سے سنی، جب میں آپ کے گھر کو دیکھوں گا میں آکر آپ کو خبر دوں گا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس کو اللہ لوگوں کے امور کا والی بنائے، تو وہ ان کی ضروریات، ملاقات اور ان کے فاقوں سے دربان بٹھا لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی حاجات و ضروریات اور فاقوں سے دربان بٹھا دے گا۔“