کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ قربانی کرنے کی نذر مانی تاکہ وہ صدقہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَهَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟ "، قَالُوا: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے دور میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تو نہ تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہاں پر کوئی میلہ تو نہیں لگتا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نذر کو پورا کر اور نافرمانی کی نذر کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور جس کا ابن آدم مالک نہیں اس کو بھی پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗١٤٣⦘ الْمِصْرِيُّ ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ - وَهُوَ ابْنُ ضَبَّةَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، وَأَنَا مَعَ أَبِي، فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ، قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ أَبِي فِي ذَلِكَ الْمَقَامِ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ: خَمْسِينَ شَاةً عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عَلَيْهَا مِنْ هَذِهِ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَوْفِ لِلَّهِ مَا نَذَرْتَ لَهُ " قَالَتْ: فَجَمَعَهَا أَبِي، فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ شَاةٌ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ: اللهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي، حَتَّى أَخَذَهَا فَذَبَحَهَا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ يَزِيدَ وَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں دیکھا، وہ اپنی اونٹنی پر تھے اور میں اپنے والد کے ساتھ تھی۔ راوی نے حدیث کو ذکر کیا، اس جگہ میرے والد نے آپ ﷺ سے عرض کیا: میں نے کئی بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق انہوں نے یہی کہا: بوانہ کی چوٹی پر پچاس بکریاں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے اپنی نذر پوری کرو۔“ میرے والد نے بکریاں جمع کر کے ذبح کرنی شروع کیں تو ایک بکری بھاگ گئی۔ اس کو پکڑ کر لائے اور کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي» ”اے اللہ! میری نذر کو پورا کرنا۔“ پھر اس کو ذبح کر دیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ (میرے والد نے) کہا: میں نے نذر مانی کہ اگر میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو بوانہ کی چوٹی پر گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں کئی بکریاں ذبح کروں گا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ (میرے والد نے) کہا: میں نے نذر مانی کہ اگر میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو بوانہ کی چوٹی پر گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں کئی بکریاں ذبح کروں گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي غَرَائِبِ الشُّيُوخِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ: " فِي قَلْبِكَ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے نذر مانی کہ بوانہ نامی جگہ پر ذبح کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے دل میں جاہلیت کی کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر۔“